خطبات محمود (جلد 7) — Page 120
بڑی ۱۳۰ سنو ہر ایک شخص جو قادیان آتا ہے اور اس کے سپرد سلسلہ کا کوئی کام کیا جاتا ہے۔خواہ وہ تنخواہ پاتا ہو یا چھوٹی خواہ اس کو الاؤنس ملتا ہو یا کچھ اور ان میں سے ہر ایک کو میں بتاتا ہوں کہ جس قسم کے آدمی ہم چاہتے ہیں ان کی کیا شرائط ہیں۔جو شخص ان شرائط کو سنکر محسوس کرے کہ وہ ان کی پابندی نہیں کر سکتا۔وہ صاف صاف کہدے۔ک وہ شرائط کیا ہیں؟ میں نے اپنے نفس پر غور کیا اور ان کے نفس پر بھی غور کیا ہے۔جو مجھ سے پہلے تھے اگرچہ میں ان کی خواہشات پر بحث نہ کروں گا۔ہاں اگر ضمنی طور پر ان کا ذکر آجائے۔تو خیر۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم نوکروں سے مل کر کام نہیں کر سکتے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میں نوکر نہیں رکھ سکتا۔یہ طریق صحیح ہے یا غلط یہ بحث الگ ہے۔مگر میں جو کام لینے والا ہوں۔آپ لوگوں کو کھول کر سناتا ہوں۔کہ میرے نزدیک نوکروں سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے۔مجھے اسلام میں اسلام کا کام کرنے کے لئے نوکروں کا پتہ نہیں ملتا۔اس کی وجہ یہ ہے۔کہ اسلام کی خدمت نوکروں کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔اور وہ شخص جو کسی مقرر رقم کی خاطر خدمت اسلام کرتا ہے۔اس کی خدمات پر ترقی اسلام کی بنیاد رکھنا لغو ہے۔خدا کے جلال کا اظہار ایسے شخص کے کام پر رکھنا جس کے نزدیک روپیہ نہیں تو کچھ نہیں بالکل عبث ہے۔روپیہ کا رشتہ سب سے کمزور رشتہ ہے۔اور خدا کے جلال کا رشتہ بہت ہی بڑا اور اہم رشتہ ہے میں کبھی پسند نہیں کروں گا کہ میرے بچوں کی تربیت نوکروں کے ذمے ہو۔میں کبھی نہیں چاہتا کہ میرے آرام کی اشیاء کی کنجی نوکر کے پاس ہو۔بلکہ میں اپنے بچوں کی تربیت اور اپنے آرام کی چیزیں اگر کسی کے سپرد کروں گا تو اپنے اعلیٰ سے اعلیٰ اور قریب سے قریب کے رشتہ داروں میں سے ایک کے ذمہ کروں گا۔یعنی اپنی بیوی کے سپرد بچوں کی تربیت کروں گا۔اور میری آرام دہ اشیاء بھی اس کے قبضہ میں ہوں گی۔جسطرح میری ذات کے متعلق ہر ذمہ واری کا کام نوکر کے سپرد نہیں بلکہ بیوی کے سپرد ہو گا۔اسی طرح بیوی کبھی پسند نہ کرے گی کہ اس کے آرام کا سوال نوکروں کے سپرد ہو۔بلکہ وہ اپنے آرام کا انتظام میرے سپرد کرے گی۔پس جب ہم اپنے گھر کی کوئی قیمتی چیز نوکروں کے سپرد نہیں کر سکتے تو خدا اور اس کے رسول کے تعلق کو کیسے نوکروں کے سپرد کر دیں۔جیسا کہ حضرت مسیح نے کہا ہے۔کہ میں موتی کتوں اور سوروں کے آگے نہیں ڈال سکتا۔اسی طرح خدا کے تعلق کی ایسی قیمتی چیز ملازموں کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔نوکر خواہ ہزاروں کا ہو یا چند روپیہ کا۔تاہم نوکر ہے۔اس لئے ذاتی آرام کا کام اس کے سپرد نہیں کیا جا سکتا اسی طرح دین کا کام بھی قطعا " قطعا " نوکر کے سپرد نہیں ہو سکتا۔اگر یہ سلسلہ دینی ہے اور ضرور دینی ہے۔اگر اسلام اڑ گیا تھا۔اور اس کو حضرت مرزا صاحب