خطبات محمود (جلد 7) — Page 6
ہیں۔مگر جب کھیل ختم ہو جاتا ہے تو وہی لڑکے آپس میں بانہیں ڈال کر چل پڑتے ہیں سارا جوش رفع ہو جاتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ ایک بناوٹی مقابلہ کے لئے تھا۔اگر کوئی شخص ایسا ہو۔جس نے پہلے یہ نظارہ نہ دیکھا ہو۔تو جب وہ انہی لڑکوں کو کھیل کے میدان میں دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ یہ آپس میں دشمن ہیں۔اور پھر جب کھیل کے بعد ان کو دیکھے گا کہ وہی لڑکے آپس میں بھائیوں کی طرح جا رہے ہیں۔تو وہ یہ نظارہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا۔اسی طرح جب ایک ناواقف شخص سید شیخ، مغل، پٹھان، راجپوت وغیرہ اقوام میں مقابلہ دیکھے گا۔تو وہ ضرور حیران ہو گا۔کہ یہ ایک سے لوگ ہیں۔ان کے کان آنکھ ناک سب ایک طرح کے ہیں۔مگر ان میں یہ تقسیمیں کیوں ہیں۔اور ان کے دائرے محدود کیوں ہیں۔اور یہ کیوں سب کے فائدہ کا خیال نہیں کرتے۔یہ روح مقابلہ کی اللہ تعالیٰ نے اس لئے رکھی تھی۔کہ جہاں سچا فرق ہے۔وہاں کیا کرنا چاہئیے ایک خدا پرست ہے۔وہ سکول میں دیکھے۔کہ بھائی سے بھائی پڑھائی میں بڑھنا چاہتا ہے۔اور فیلڈ میں ایک ہی سکول کی دو ٹیمیں ہیں۔مگر وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں ہیں۔پھر قوموں کو دیکھے۔کہ ہر ایک قوم دوسری قوم کے مقابلہ میں اپنے فوائد کو مقدم کر رہی ہے۔اس وقت اس کو معلوم ہو گا۔کہ سب سے جھوٹا تیرا ہی نفس ہے۔یہ جو کچھ فرق تھا جھوٹا اور نمائشی تھا۔مگر اس کے لئے اتنی جدوجہد ہو رہی ہے۔مگر تجھ میں اور غیر (جو خدا پرست نہیں) میں سچا فرق ہے۔مگر تو آرام سے گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔اور وہ جھوٹے اور نمائشی فرق کے لئے لڑ رہے ہیں۔یہ روح توجہ کے لئے پیدا ہوئی تھی۔کہ اس مقابلہ کی روح سے اصلی مقابلہ میں سبق لیں۔اور اس میں جوش و خروش اور جدوجہد سے کام لیں۔جھوٹے مقابلہ میں تو کس جوش سے کام کیا جاتا ہے۔اور بچے میں ہتھیار ڈال دیئے جاتے ہیں جھوٹی آگ بجھاتے ہیں۔اور حقیقی آگ کے لئے ایک ڈول تک پانی کا نہیں ڈالتے۔یہ ایک عجیب بات نظر آتی ہے اصل مقابلہ کی بات میں ستی دکھاتے ہیں۔اور جہاں مقابلہ اصلی انہیں وہاں خوب جوش و خروش سے کام کرتے ہیں۔جہاں لڑائی کی ضرورت ہے۔وہاں خاموش ہیں۔جہاں ضرورت نہیں وہاں لڑتے ہیں۔یہ مقابلہ اصل مقابلہ کے لئے بطور تحریک تحریص اور تحریض کے تھا۔مگر اسی کو اصل بنا لیا اور اصل کو چھوڑ بیٹھے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے۔کہ مدرسہ میں پڑھاتے ہوئے تصویر ایک جانور کی دکھاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس کو ہماری زبان میں اونٹ انگریزی میں کیمل اور عربی میں جمل کہتے ہیں۔اب طالب علم بجائے اس کے کہ تصویر سے اتنا ہی کام لیتا۔جتنا کہ اس سے مقصود تھا۔وہ تصویر کے نقش و نگار اور رنگوں میں پڑ جاتا ہے۔اور یہ بھول جاتا ہے۔کہ یہ اونٹ تھا یا ہلی۔یہی حال جھوٹی ترقی اور کامیابی کا ہے۔کہ یہ اصل میں اصلی کامیابی کے لئے ہے۔لیکن اس کے لئے نہ