خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 112

۱۱۲ (الاحزاب (۲۲) کہ تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل میں ایک نمونہ ہے۔کیا اس کے یہ معنی نہیں۔کہ رسول کریم اپنے عمل سے بتلائیں کہ کونسا فعل جائز ہے اور کونسا نا جائز۔کونسا مستحسن ہے۔اور کونسا مکروہ۔اور کونسا حلال ہے اور کونسا حرام۔پس رسول کریم کا ہر ایک کام ایک بیان ہے۔اور ایک ڈسکرپشن (Description) ہے۔مثلاً آپ کا نماز پڑھنا نہ صرف خدا کے ایک حکم کی تعمیل تھی۔بلکہ اعلان تھا کہ یہ فرائض ہیں۔یہ سنتیں ہیں۔اور یہ نوافل ہیں جو فرائض کے علاوہ ہیں۔اور جن کا پڑھنا قرب الہی کے لئے ضروری ہے۔آپ کا کھانا کھانا اعلان تھا کہ جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ حلال ہے۔اور جن چیزوں کو آپ نہیں کھاتے تھے وہ کھانے کے ناقابل تھیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل چونکہ نمونہ بنایا گیا ہے لوگوں کے لئے۔اس لئے آپ جن چیزوں کو جائز بتاتے تھے اور استعمال فرماتے تھے۔یہ عبادت تھی۔اسی طرح جن سے منع فرماتے تھے اور استعمال نہ کرتے تھے۔یہ بھی عبادت میں شامل تھے۔غرض آپ کا ہر فعل عبادت تھا۔کیونکہ خدا کے حکم کے ماتحت تھا۔چنانچہ اس کی ایک مثال ہے کہ ایک شخص نے عصر کی نماز کا وقت دریافت کیا۔ظاہر ہے کہ اول وقت پر نماز پڑھنا مستحسن ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر کی کہ وقت نہایت تنگ ہو گیا آپ کا نماز میں یہ دیر کرنا بھی عبادت تھا۔کیوں؟ اس لئے دیری کہ آپ یہ سبق دے رہے تھے۔کہ اگر انسان کسی وجہ سے کسی وقت اول وقت میں نماز نہ پڑھ سکے۔تو اگر آخری وقت تک پڑھ لے۔تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔غرض فرائض میں اعلان تھا۔واجبات میں اعلان تھا۔نوافل و سنن میں اعلان تھا کہ یہ سب کچھ عبادت الہی ہے۔اس حالت پر بھی آپ فرماتے ہیں کہ خدا کے فضل سے بہشت میں جائیں گے۔پھر ہم لوگ جن کے اعمال بہت تھوڑے ہیں کیسے کہہ سکتے ہیں۔کہ ہم اعمال سے بہشت میں چلے جائیں گے۔اس سے تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ فضل کیسی ضروری چیز ہے مگر وہ محض دعوئی سے حاصل نہیں ہوتا۔اس کے حصول کے لئے بھی کسی چیز کی ضرورت ہے۔محض دعویٰ ایمان سے کچھ نہیں بنتا۔کیا تم نے قرآن کریم میں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ نہیں پڑھا؟ کہ یہ مت سمجھو کہ وہ آدم کے بیٹے تم نہیں ہو۔تم میں سے جو قربانی لاتا ہے۔اور سچائی اور راستبازی کے ساتھ لاتا ہے اور محض دعویٰ ایمان نہیں کرتا آدم کا وہ فرزند ہے جس کی قربانی قبول ہوئی۔اور دوسرا جو محض دعویٰ ایمان لیکر آتا ہے۔اور اس کی قربانی میں صداقت اور راستبازی نہیں ہوتی۔وہ گویا ایک نجاست کا ٹوکرا قربانی کرتا ہے۔اور وہ آدم کے اس فرزند کی مانند ہے جس نے کہا جاتا ہے کہ ایک پیاز کا ٹوکرا قربانی پیش کیا تھا جو ایسی بدبو دار چیز ہے کہ اسے کھا کر انسان کے لئے مسجد میں جانا منع ہے۔پس تم میں