خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 101

14 ہو گا جو تم اس راستہ پر چلو گے۔کیا تم لوگوں نے زندگی کا ٹھیکہ لیا ہے۔کہ تم نہیں مرد گے۔جب تک کہ تم اپنے مقصد کو پاؤ گے وہ کیا تبدیلی آئے گی۔اور کب آئے گی جب تم مسیح موعود کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے۔مومن اور مسلم کے الفاظ سے ہی تمہارے فرائض کا پتہ لگتا ہے مگر تم اس پر غور نہیں کرتے۔مسلم کہتے ہیں فرمانبردار کو ایسا فرمانبردار جو اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردے۔مومن اس کو کہتے ہیں جس کو خدا پر کامل یقین ہو۔جو امن میں ہو اور دنیا کو امن دینے والا ہو۔لیکن تم میں سے ہر ایک اپنی حالت پر غور کرے کہ کیا تم میں یہ حالت ہے تم ان صفات کو اپنے اندر پاتے ہو ؟ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم کو ابتلا آجاتا ہے۔ترقی نہ ملے تو تمہارا ایمان خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔معمولی باتوں پر جو لوگ کہتے ہیں کہ ان کو ابتلا آگیا وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ابتلا برداشت نہیں کر سکتے۔اگر کہیں کہ بڑی بڑی ٹھوکریں انہوں نے کھائیں۔اور سلامت رہے تو میں کہوں گے کہ وہ ٹھوکریں ان کے لئے ابتلا نہ تھیں ان کے لئے یہی ابتلا تھا جس کو برداشت نہ کر سکے۔کیا ترقی کا نہ ہونا یا کسی اور معاملہ میں ان کی خواہش کا پورا نہ ہونا ایسا ہے جس سے ان کا ایمان متزلزل ہو جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے جن کا مسیح موعود کی آمد یا صداقت سے کوئی تعلق نہیں تم میں سے بڑے بڑوں کو یعنی ان کی جو دوسروں کو بڑے اور اہل الرائے نظر آتے ہیں۔مسیح موعود پر شک پیدا ہو جاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایسی کمزرویاں ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہیں تو اس قسم کی کمزوریاں تو صحابہ میں بھی تھیں۔مگر میں کہتا ہوں بعض صحابہ نے بھی کمزوریاں دکھائیں لیکن کمزوریاں دکھانے والوں کے مقابلہ میں ثبات اور جرأت ایمانی دکھانے والوں کی تعداد بہت اور بہت زیادہ ہے۔تم میں سے تو کمزوریاں دکھانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔اور صحابہ میں جرأت ایمانی دکھانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔تم میں ثبات دکھانے والے ایک دو ہیں اور وہ بھی ہندوستان سے باہر ہیں۔تم میں کم ہیں جن کے متعلق میرا دل گواہی دیتا ہو کہ وہ خواہ کیسے ہی حالات میں سے گزریں۔ان پر کوئی ابتلا نہیں آسکتا۔، تم میں ابھی ایسے لوگ ہیں جو توقع رکھتے ہیں کہ ان سے مولفۃ القلوب والا معاملہ کیا جائے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک شخص جو کئی برس سے مسلمان ہو چکا تھا مجھے کہنے لگا مولفہ القلوب سے مدد دو۔حالانکہ مولفۃ القلوب وہ لوگ ہوتے ہیں جو بعض دنیاوی رکاوٹوں سے اسلام کا اظہار نہ کر سکتے ہوں اور ان روکوں کے دور کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔تاکہ وہ جرأت سے اسلام کا اظہار کر سکیں۔اگر تم باوجود زبان سے اقرار اسلام و ایمان کرنے کے پھر بھی مولفۃ القلوب کے سے سلوک کے متوقع ہو تو مومنوں میں کب شامل ہوگے۔ایسے لوگوں سے مولفۃ القلوب اچھے ہیں