خطبات محمود (جلد 7) — Page 90
۹۰ بیج تو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔اگر بیج نہ ہوتا تو انسان کتنی بھی محنت کرتا گیہوں نہ پیدا کر سکتا۔پھر محنت سے پانی نہیں پیدا ہو سکتا۔اسی طرح گٹھلی یا شاخ کے بغیر انسان کتنی بھی محنت کرے درخت نہیں اگا سکتا۔تو بندہ عرض کرتا ہے میں اسی کے نام سے شروع کرتا ہوں۔جو بغیر کوشش کے فضل کرنے والا ہے پھر جو رحیم بھی ہے۔یعنی یہ نہیں کہ چیزیں ایک دفعہ بنا کر چھوڑ دے بلکہ اگر کوئی ان نعمتوں کو اچھی طرح استعمال کرے تو اور انعام کرتا ہے۔صدقہ تو بہت لوگ کرتے ہیں مگر ان کے اور اللہ کے صدقہ میں بہت فرق ہے۔لوگ صدقہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پورا کر لیا مگر اللہ تعالٰی صدقہ کرتا ہے اور جب بندہ اچھا استعمال کرتا ہے تو اور انعام کرتا ہے پھر بندہ کرتا ہے اور اللہ اور بڑھاتا ہے۔پہلوان کی مثال دیکھ لو۔وہ پہلے دن اکھاڑے میں جاتا ہے تو اس کا جسم اور لوگوں کی طرح کا ہوتا ہے۔لیکن وہ جوں جوں خدا تعالٰی کے دئے ہوئے جسم کو اچھی طرح استعمال کرتا ہے۔توں توں اس کا زور بڑھتا ہے۔یہ تو جسم کے متعلق ہوا۔اب دماغ کے متعلق دیکھ لو۔ایک لڑکا محنت کرتا ہے تو اس کا دماغ خالی نہیں ہو جاتا۔بلکہ زیادہ تیز ہوتا ہے۔پھر وہ اور کوشش کرتا ہے۔اور دن بدن ترقی ہوتی ہے۔حتی کہ وہ عالم کہلانے لگتا ہے۔اور لوگوں کے نزدیک اپنے علم کی وجہ سے قابل تعظیم ہو جاتا ہے۔پس ہر بچے مذہب کا ایک رکن یہ ہوتا ہے یعنی یہ یقین کہ خدا ہے۔اور اس میں تمام طاقتیں ہیں۔اور وہ بندوں پر فضل کرتا ہے اور ان کی ہمت کو بڑھاتا ہے اور اس کا قانون بنا ہوا ہے۔جس پر چل کر بندہ انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے۔اس کے سوا مذہب نہیں ہو سکتا۔تو بسم الله الرحمن الرحیم سے عقیدہ کی درستی کا اظہار ہو گیا۔یعنی ہم اللہ کو مانتے ہیں اور تمام صفات حسنہ کا مالک یقین کرتے ہیں۔دوسرا رکن اسلام کا انا اعطیناک الکوثر ہے یعنی وہ خدا جو رحمن ہے اور رحیم ہے کہتا ہے کہ اے رسول میں نے تجھ کو کوثر دیا ہے۔ایک تو کوثر اس چشمہ کا نام ہے جو جنت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کے لئے مخصوص فرمایا ہے۔یہ آنحضرت کے خاص انعامات میں سے ہے۔اور اس میں سے پینا معرفت الہی میں ترقی کرنے کے ذرائع میں سے ہے۔دوسرے کوثر کے معنی بڑی خیر والے آدمی کے بھی ہیں۔اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اے رسول میں نے تیرے لئے ایک ایسا آدمی مقرر کیا ہے جو دنیا کی بڑی اصلاح کرے گا۔یہ بھی بچے مذہب کی علامت ہے کہ دشمن کے حملہ کو بچا سکے اور جب مذہب کو ضرورت ہو اس وقت ایسا آدمی بھیجا جاوے جو اصلاح کرے۔دیکھ لو حضرت عیسی علیہ السلام کے مذہب کی کیا حالت ہے۔وہ بندہ جو خدا کی توحید قائم کرنے آیا تھا۔اب اس کی پرستش ہو رہی ہے۔ایک سے تین خدا بنا لئے بلکہ بعض تو حضرت مریم کو بھی خدا خیال کرتے ہیں۔تو عیسائیت کی اصل حالت نہیں رہی یہ لوگ شریعت کو لعنت سمجھتے