خطبات محمود (جلد 7) — Page 79
44 20 اپنی زندگی کا ایک مقصد قرار دو فرموده ۲۹ ۱ جولائی ۱۹۲۱ء بمقام سری نگر) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میں نے یہ بات ایک مدت سے بار بار اپنے خطبات میں بیان کی ہے کہ ہر ایک انسان کو اپنے زندگی کا ایک مقصد قرار دینا چاہئیے۔بغیر اس کے کوئی شخص اپنے کاموں میں کامیاب نہیں ہو سکتا بیشک وہ اپنی کارروائیوں پر خوش ہو جائے گا۔مگر اصل میں کوئی نتیجہ اس کے کام کا نہ ہوگا۔اور اس کی مثال ایک مقصد کو مد نظر رکھ کر کام کرنے والے کے مقابلہ میں ایسی ہی ہوگی جیسے ایک شخص تو اراد تا کسی جگہ نیچے اترتا ہے مگر دوسرا پھسل کر جا پڑتا ہے۔پہلے کا ایک مقصد تھا۔اس میں وہ کامیاب ہو گیا مگر دوسرے کا پھل جانا کامیابی نہیں کہلا سکتا۔ایسا ہی ایک وہ شخص ہے جو بستر میں دوسرے کی چادر غفلت سے باندھ لیتا ہے اور اپنے اور بیگانے کی تمیز نہیں کرتا۔دوسرا اس ارادہ سے باندھتا ہے کہ میرے ہمراہی کا اسباب محفوظ ہو جاوے ضرورت کے وقت اول الذکر تو بڑی جدوجہد کے بعد اس چادر کو اتفاقا" بستر سے نکال لے گا۔مگر دوسرا اس کو اپنی یاداشت کی بنا پر فوراً نکال لے گا۔یہ ہر دو آدمی بلحاظ کام کے برابر نہیں ہو سکتے۔گو وہ اپنے کام میں کامیاب نظر آتے ہیں مگر ایک کا کام قابل ملامت ہے۔اور دوسرے کا قابل ستائش۔ایسا ہی ایک وہ شخص ہے جو دریا میں تیرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق کسی خاص جگہ کنارہ پر جا سکتا ہے۔اور دوسرا گو پہنچ تو وہیں جاتا ہے مگر نہ تیر کر بلکہ رو میں بہ کر۔ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔یہی فرق قرآن اور ان دوسری کتابوں میں ہے جو انسانوں کی تصنیف ہیں۔قرآن پہلے دعوی کرتا ہے کہ وہ بے نظیر ہے۔مگر شیکسپیئر اور حریری کی کتابیں یہ دعویٰ نہیں کرتیں۔قرآن کی بیان کردہ باتوں کے مطابق واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں۔مگر دوسری کتابیں واقعات کے ماتحت ہوتی ہیں۔اور یہی دونوں باتیں ایک کو خدا کا کلام قرار دیتی ہیں دوسری کو انسان کا۔قرآن نے شروع میں ہی دعویٰ کیا ہے کہ میں بے نظیر ہوں جیسا کہ فرماتا ہے ان کنتم في ريب