خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 74

18 صفائی نیت سے السلام علیکم کہو فرموده ۱۵ / جولائی ۱۹۲۱ء بمقام سری نگر) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا۔کہ نیتوں کا اعمال پر بڑا اثر ہوتا ہے۔اس بات کے واضح کرنے کے لئے میں ایک ایسی مثال بیان کرتا ہوں جو ہر ایک مسلمان کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اور اس ملک میں خصوصاً بہت رائج ہے۔نبی کریم فرماتے ہیں کہ افشاء سلام آپس کی محبت اور تعلق کو بڑھاتا ہے۔۔۔اس کی اہمیت پر آپ نے بہت زور دیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے دلوں میں اس مسئلہ کی خاص عظمت گرگئی تھی۔بعض بازار میں صرف اس غرض سے جاتے تھے۔کہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی نے دوسرے کو کہا چلو بازار چلیں۔اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا لوگوں کو ہم سلام کریں گے اور وہ ہم کو۔۲۔وہ لوگ اس کی غرض اور حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ سلام آپس کی محبت اور پیار بڑھاتا ہے۔اور فتنوں کو دور کرتا ہے۔یونہی نہیں تھا السلام علیکم وہ سلامتی ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور جو ملا کہ چاروں طرف سے جنتیوں کو دیں گے۔اس سے اسی سلامتی کی طرف اشارہ ہے۔مومن جب فوت ہوتا ہے۔تو اس پر سلامتی کے دروازے چاروں طرف سے کھل جاتے ہیں۔یوں تو بیماری سے بچنا بھی سلامتی ہے مگر کامل سلامتی موت کے بعد ہی ہوتی ہے۔دنیا میں کامل سلامتی کبھی نہیں مل سکتی۔یہاں جتنی راحتیں اور آرام ہوتے ہیں وہ تمام دکھ کے ساتھ ملوث ہیں مگر مرنے کے بعد جو سلامتی مومن کو حاصل ہوتی ہے وہ کامل ہے۔جنت میں مومن کو اس کی خواہشات سے بڑھ چڑھ کر ملتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔کہ سب سے نچلے درجے کے مومن کو خدائے تعالی فرمائے گا۔کہ مانگ جو مانگتا ہے۔تو وہ مانگے گا۔پھر حکم ہوگا کہ اور مانگ۔آخر کار وہ مانگنے سے قاصر ہو جائے گا۔یعنی اسے معلوم نہ ہو گا کہ کیا مانگے۔پھر خدا تعالیٰ خود اس کو بہت سی نعمتیں عطا فرما دے گا۔۳۔