خطبات محمود (جلد 7) — Page 2
وجود سے دنیا کو کوئی نفع نہیں۔وہ اپنے محلہ والوں حتی کہ اس کی ہمدردی اپنے رشتہ داروں۔بہن، بھائی اور بیوی بچے سے بھی نہیں ہوتی بلکہ اس کو صرف اپنے نفس سے ہوتی ہے۔تو وہ خیال کرتا ہے انسان کی غرض پیدائش کچھ بھی نہیں۔پس یہ ایک اختلافی سوال ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا کہ دنیا میں کئی حیثیت کے آدمی آباد ہیں۔جب ایک شخص ایسے انسان کو دیکھتا ہے جو دنیا کا ہمدرد اور بہی خواہ مثلاً وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے۔تو اس کو معلوم ہوتا ہے۔کہ ساری دنیا اسی شخص کے لئے ہے۔لیکن دوسری طرف جب وہ ایک زمین دار کو دیکھتا ہے۔کہ اس کی بڑی سے بڑی خواہش کھیت میں کام کرنا اور کھانا اور سو رہتا ہے یا ترقی کی تو کسی دوسرے زمین دار کی زمین اپنی زمین میں شامل کر لی یا اس سے ترقی کی تو کسی دوسرے زمین دار پر مقدمہ کھڑا کر دیا۔تو وہ کہتا ہے۔کہ انسان کی پیدائش سے کوئی غرض نہیں تو یہ اختلاف دراصل نظر کا اختلاف ہے۔جس کو جیسے آدمی نظر آتے ہیں۔وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔جب ایک شخص کو بیمار ہی بیمار نظر آتے ہیں تو وہ کہتا ہے دنیا بیماروں ہی کے لئے ہے۔اور جب تندرستوں کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ دنیا میں بیماری نہیں۔لیکن یہ نتیجہ صحیح نہیں۔کیونکہ جس طرح بیمار بھی ہوتے ہیں اور تندرست بھی۔اور آم کھٹے بھی ہوتے ہیں اور میٹھے بھی۔اسی طرح آدمی بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہوتے ہیں کہ چاند سورج اپنی تمام خوبیوں کے باوجود ان کے فیوض کے آگے کچھ نہیں ہوتے ہم جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام کو دیکھتے ہیں۔تو کہتے ہیں کہ اس میں جو علوم اور جو برکات ہیں وہ کسی چیز میں بھی نہیں۔آسمان کے ستارے ان علوم کے مقابلہ میں بیچ ہو جاتے ہیں۔تب وہ کہتا ہے کہ انسان کے لئے اس قدر وسعت ہے۔اور وہ یہ کہتا ہے کہ دنیا ایسے انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔لیکن جب دوسری طرف ایک اور وجود ہوتا ہے۔کہ وہ تمام دنیا کے فائدہ کے مقابلہ میں اپنے ہی فائدہ کو مد نظر رکھتا ہے اور اپنے نقصان کو نقصان سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کے رنج و غم کو محسوس نہیں کرتا۔اور اس کی نظر کی حد اس کا وجود ہوتا ہے۔کسی کو ننگا دیکھتا ہے تو اپنے پاس کپڑا رکھنے کے باوجود اس کو نہیں دیتا۔تو وہ کہتا ہے۔کہ دنیا اس کے لئے نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا مسیح موعود یا عیسی یا موسی کی آمد اس کے لئے نہ تھی۔ایسا شخص دنیا میں کھاد کا کام دیتا ہے۔اور ذبیحہ بنایا جاتا ہے اس کے لئے دنیا نہیں ہوتی۔بلکہ یہ دنیا کے لئے ہوتا ہے۔اس کی پھل کی طرح حفاظت نہیں کی جاتی۔بلکہ اس کو کھاد کی طرح درخت کی غذا کے لئے اس کی جڑوں میں ڈالا جاتا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہے ہوں کہ اپنے وجود کو ایک نافع اور کار آمد وجود بناؤ۔کہ تمہاری پھل