خطبات محمود (جلد 7) — Page 1
l خدمت خلق کرو۔تا کہ خدا مل جائے (فرموده ۷ / جنوری ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعویذ سورۃ فاتحہ اور آیت شریفہ یا ايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا " كثيراً ونساء واتقوالله الذي تساء لون به والارحام ان الله كان عليكم رقيباً (النساء : ۲) کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ انسان کی زندگی ایک محدود چیز ہے زیادہ سے زیادہ عمر کے آدمی تاریخی طور پر پونے دو سو برس کی عمر تک کے معلوم ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں بڑی عمر کے انسان کا ذکر ہے مگر اس سے مراد ان کی قوم کی عمر ہے۔پس آدمی کی بڑی سے بڑی عمر پونے دو سو برس معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی شاذو نادر ہے۔ورنہ یوں انسان کی عمر ساٹھ ستر سال معلوم ہوتی ہے۔اس عمر میں وہ کیا کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔یہ ایسا سوال ہے جو ہمیشہ الجھن میں ڈالتا رہا ہے۔بہت ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ انسان ستاروں اور سیاروں کے اثرات کے ماتحت ایک ار ہے۔جہاں اثر زیادہ پڑتا ہے وہاں زندگی کے آثار زیادہ ہوتے ہیں اور جہاں کم وہاں کم۔اور جہاں جتنا اثر پڑتا ہے۔اس کے مطابق اثر ظاہر ہوتا ہے کہیں انسان اور کہیں نباتات و جمادات۔اس سے زیادہ زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔نہ اس کی پیدائش کی کوئی غرض ہے۔نہ مرنے میں کوئی غرض یہ اپنے آپ کو آپ ہی بڑا سمجھتا ہے۔اس کی دنیا سے بڑی بڑی دنیا ئیں اور ہیں۔جن کے مقابلہ میں یہ دنیا ایک بالکل حقیر ہے۔اس کے مقابلہ میں کچھ اور لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اگر انسان نہ ہوتا تو کچھ نہ ہوتا۔گویا ایک ایک طرف لئے جاتے ہیں تو دوسرے در سری طرف۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص کو ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس کے لئے ساری دنیا ہے۔وہ سب کا ہمدرد ہے اور سب کا بہی خواہ ہے۔اور ساری دنیا اس کی محتاج ہے۔اور وہ سب دنیا کو فیض پہنچا رہا ہے۔وہ نہ صرف انسانوں کا ہمدرد ہے بلکہ حیوانوں تک اس کی ہمدردی کا اثر ہے۔مگر دوسری طرف وہ دیکھتا ہے۔کہ ایک انسان ہے وہ لمبی عمر بھی پاتا ہے مگر وہ دنیا سے بے تعلق ہے۔اس کے