خطبات محمود (جلد 7) — Page 54
تعلیم دیتے تھے۔ان میں نماز، روزہ، حج، زکوۃ ختنہ نکاح ، طلاق کے مسائل کس طرح تھے اور تھے بھی یا نہ تھے۔- لیکن اس میں شبہ نہیں کہ گو ہم ان مسائل کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتے مگر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ہمارے لئے حکم ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔اسی طرح یہی حکم آدم کے وقت کے لوگوں کے لئے نوح کے وقت کے لوگوں کے لئے اور خواہ کوئی نبی ایران میں ہوا ہو۔یا اٹلی میں۔یا ایسے علاقوں میں کوئی نبی آیا ہو جن کو عذابوں نے اب بالکل غیر آباد اور چٹیل میدان بنا دیا ہو ان سب کی تھی کہ جھوٹ نہ بولو۔اور کوئی نبی ایسا نہیں آیا۔جس نے ظلم کی تعلیم دی ہو۔اور جس نے یہ کہا ہو کہ لوگوں سے خوش خلقی سے نہ پیش آؤ۔نماز روزہ حج زکوۃ نکاح کے مسائل میں اختلاف ہے۔یہ باتیں ہر زمانے میں بدلتی رہی ہیں۔لیکن یہ اخلاق کی تعلیم نہ بدلی ہے۔نہ بدل سکتی ہے۔بلکہ یہ تمام انبیاء کی ایک ہی تعلیم رہی ہے۔ہمارے پاس ان انبیاء کی کتابیں نہیں جن میں ان کی تعلیم لکھی ہوئی ہو۔لیکن آثار ہیں جو ان قوموں کے افکار میں پائے جاتے ہیں۔اور نسلا بعد نسل آرہے ہیں۔ان سے پتہ لگتا ہے کہ یہ تعلیم تھی کہ جھوٹ سے پر ہیز کریں۔اور ظلم سے باز آئیں۔ہم جنگل میں جاتے ہیں۔اور ایسے جنگلوں میں پہنچتے ہیں جہاں ریل وغیرہ کا نام و نشان نہیں۔اور جہاں تعلیم کا اثر نہیں۔اور وہ ممالک جن کا دیگر ممالک سے تعلق نہیں۔ان میں بھی یہ تعلیم پاتے ہیں۔کہ جھوٹ نہ بولو۔ان اقوام میں تعلیم نہ ہو۔ان کے اعمال میں اختلاف ہو۔لیکن باوجود امتداد زمانہ کے ان میں یہ بات ضرور ہے کہ جھوٹ اور ظلم بری چیزیں ہیں۔اور اعمال و عقائد میں اختلاف بے حد ہوگا اور ہے۔مگر ان اخلاق کے متعلق تعلیم ایک سی ہے۔پس یہ احکام کو مذہب و روحانیت نہیں لیکن یہ مذہب کا جزو ہیں جن کے بغیر مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔سچ بولنا روحانیت نہیں۔خوش خلقی مذہب نہیں مگر کوئی روح روح نہیں جس میں اخلاق نہیں۔گویا اخلاق قشر ہیں جن میں ایمان کا مغز ہوتا ہے یہ گلاس ہیں جن میں شربت ہوتا ہے۔کوئی روحانیت باقی نہیں رہ سکتی جس میں اخلاق نہ ہوں۔جیسا کہ گلاس کے ٹوٹنے پر شربت کے بہ جانے میں کچھ شک نہیں ہوتا۔اسی طرح اخلاق کے خراب ہونے سے مذہب اور روحانیت کا بھی کچھ نہیں رہ جاتا۔میں اپنی جماعت کو اخلاق کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں۔مگر افسوس ابھی پوری توجہ نہیں کی گئی۔اور بہت ہیں جو توجہ نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ہم نیک ہیں۔زکوۃ دیتے ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ گلاس کے پیندے میں یا اس کی دیوار کے ایک