خطبات محمود (جلد 7) — Page 435
۴۳۵ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان سترہ اٹھارہ برس کا ہے۔نہایت خوبصورت ایسا جیسا کہ مشہور ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے نظیر خوبصورت تھے۔وہ نوجوان باہر سے آیا ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میری ذاتی دوستی ہے۔یہ نہیں کہ وہ احمدی ہے بلکہ دوست معلوم ہوتا ہے۔اس سے احمدیت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔مگر اس کی حالت یہ ہے کہ جو اس سے ملتا ہے خوش ہو جاتا ہے۔وہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھا ہوا ہے۔اس وقت میں نے دیکھا کہ ہمارے خاں صاحب ذوالفقار علی خاں صاحب آئے ہیں ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی ہے۔اور وہ حیران ہیں۔میں ان کو اس کے متعلق سناتا ہوں۔کہ یہ میرے دوست ہیں اور مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔اور مجھے سے چھٹے ہوئے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ یکدم ان میں بھی ایک تغیر آیا۔اور وہ سترہ اٹھارہ برس کی عمر کے نو جوان ہو گئے ہیں۔وہ اس سے ملے ہیں اور ان کی یہ حالت ہوئی ہے کہ گویا وہ خوشی سے اچھلنے لگ گئے ہیں میں نے اس کو کہا کہ میرے پاس بیٹھ کر سناؤ کہ تم کہاں کہاں گئے۔پھر میں خان صاحب سے سے کہتا ہوں کہ یہ عجیب شخص ہے۔جہاں یہ ہو لوگ اس کے گرد اکھٹے ہو جاتے ہیں۔میں ان کو یہ حال سناتا ہوں اور خوش ہوں۔آخر وہ ہمارے گھر سے نکالا اور دروازے پر کھڑا ہو گیا۔جس کی نظر اس پر پڑتی ہے وہ اس کے پاس آجاتا ہے۔قادیان کے مرد اور بچے سب لوگ اس پر لٹو ہوئے جاتے ہیں۔اور اس سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح میں کرتا ہوں اس وقت میں نے کہا اس کا نام ”موانست" ہے اور لوگوں سے ملنا اور ان سے محبت کرنا ہے۔اس نظارے کا مجھ پر ایسا اثر تھا کہ میں نے اسی وقت اپنے گھر والوں کو جگایا اور ان کو سنایا تاکہ میں بھول نہ جاؤں۔اس وقت میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ لوگوں سے ملنا جلنا اور محبت کرنا مجھے مجسم کر کے دکھایا گیا ہے۔لڑکے سے مراد وہ ملنے جلنے کی صفت تھی جو خوبصورت نوجوان کی صورت میں دکھائی گئی۔جو لوگوں سے محبت کرتا ہے اور ہنس مکھ چہرے سے ملاتا ہے۔اس کے گرد لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔جو چڑ چڑا ہو اس سے لوگ بھاگتے ہیں۔اس کے ساتھ خان صاحب کے نوجوان ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ صفت جس شخص کے اندر رہتی ہے وہ بوڑھا ہو کر بھی جو ان ہی ہوتا ہے۔کامیاب ہونے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں سے ملیں جلیں۔اس کے بغیر انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے لو كنت فظا غليظ القلب لا نفضوا من حولك (آل عمران (۱۲۰) اگر تو سخت دل ہو تا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے۔مگر یہ تیرے اخلاق اور حسن سلوک اور محبت کی وجہ ہے کہ منافق بھی جو ایمان میں تیرے ساتھ متفق نہیں تیرے پاس آتے ہیں اور باوجود اس قدر علیحدگی کے وہ لوگ تجھ کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ اعلیٰ صفت ہے مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں کے فلموں کو دیکھ کر اس صفت کو چھوڑ رہے ہیں۔ہماری جماعت میں