خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 432

م الاسهم ST کار کنار نے جلسہ اور احباب قادیان کو نصیحت (فرموده ۲۲ ر و نمبر ۱۹۲۲ء ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میری طبعیت علیل ہے اور موسم بھی ایسا نہیں کہ لوگ آرام سے بیٹھ کر سن سکیں (کیونکہ بارش ہو رہی تھی اور مسقف جگہ کی تنگی تھی اس لئے اختصار سے اپنے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے۔دعاؤں پر زور دیں۔بے شک ہماری جماعت کو حضرت صاحب نے دعاؤں کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔اور ہماری جماعت کے لوگ قرآن کریم پڑھنے کے زیادہ عادی ہیں۔انہوں نے قرآن کریم میں دعا کے متعلق دیکھا ہے اور بحیثیت مسلمان ہماری جماعت کو دعا پر یقین بھی ہے۔پھر بھی جس بات پر زور دیا جاتا ہے اور بار بار بیان کی جاتی ہے۔اس پر زیادہ عمل کیا جاتا ہے۔دیکھو قرآن مجید تھا مگر جب قرآن کریم کے واعظ نہ رہے اور وعظ کے طریق بدل گئے تو باوجود قرآن مجید کے موجود ہونے کے مسلمانوں نے دعاؤں کو چھوڑ دیا۔اس لئے میں توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن دعاؤں کے ہیں خدا کے فرستادہ نے یہ اجتماع جو مقرر کیا ہے یہ بھی اپنے اندر حج کا رنگ رکھتا ہے۔گو یہ شریعت والا حج نہیں۔مگر اس میں فوائد وہی مد نظر رکھے گئے ہیں جو حج میں ہیں۔لیکن جس طرح مسلمانوں کی سستی سے حج برکت کا موجب نہ رہا اور اب وہاں سے کتنے ہی ایمان کھو کر آتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلت سے یہ موقع بھی کھویا جائے اس لئے یہ خشیت کے دن ہیں انہیں دعاؤں میں صرف کرنا چاہئیے آنے والوں کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ادھر میری طبیعت بھی دس بارہ روز سے خراب ہے۔یہ حالت دیکھ کر ڈر ہی آتا ہے کہ میں بول بھی سکوں گا یا نہیں اس موقع پر ہماری جماعت کے ہزاروں افراد آتے ہیں اگر وہ خدانخواستہ اپنے امام کی باتوں کو نہ من سکیں تو یہ بھی ایک محرومی ہے۔اور اس سے بہت سے روحانی فوائد رک جاتے ہیں۔اگر خدانخواستہ موسم کی صفائی نہ ہو۔تو جلسہ کا ہونا ہی مشکل ہے۔ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر میں تحریک کرتا ہوں کہ خاص طور پر دعائیں کی جائیں تاکہ کہیں