خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 415

۴۱۵ گا۔علاوہ اس کے اسلام ایک سوسائٹی رکھتا ہے اور اس کے اندر ایک جماعت ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ ان کے لٹریچر کو پڑھے۔اور اس وسیع میدان کی طرف توجہ کرے۔اگر ان کی طرف توجہ نہ کی گئی تو اس کی یہ مثال ہوگی کہ جیسے کوئی شخص کسی چیز کی کان میں جائے۔اور خالی ہاتھ آئے۔ہندوستان میں اس وقت ۲۴ کروڑ ہندو بستے ہیں۔اگر قلیل سے قلیل اندازہ بھی کریں تو کروڑوں ہماری طرف آجائیں گے۔یہ سات کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں موجود ہیں۔باہر سے نہیں آئے۔بلکہ ان کا اکثر حصہ نہیں کے لوگوں میں سے آیا ہے۔پس یہ سمجھنا چاہئیے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ چالیس کروڑ کے چالیس کروڑ ہی ہمارا شکار ہونگے۔اور ان میں سے ایک بھی باہر نہیں رہے گا۔ہمیں اپنی نیت خالص رکھنی چاہیے۔اور واہ وا کا دھیان نہیں کرنا چاہئیے۔ہمیں یہ نیت کرنی چاہئیے کہ اسلام کا وہ جھنڈا جو نیچا ہو گیا تھا۔اس کو گاڑ دیں۔لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت گھر کر جائے۔دوسرے خطبہ میں فرمایا۔آج جمعہ کی نماز کے بعد بقاء محمد صاحب مدرس کا جنازہ پڑھوں گا۔جو ایک مخلص شخص تھے اور رہتاس میں رہتے تھے۔وہاں اکیلے تھے۔اور ان کا جنازہ وہاں نہیں پڑھا گیا۔(الفضل ۱۴ دسمبر ۱۹۲۲ء)