خطبات محمود (جلد 7) — Page 36
9 مسیح موعود کی غرض بعثت کو پورا کرو (فرموده ۱۸ مارچ ۱۹۲۱ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔تیرہ سو سال گذرنے کو ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نے خدا کے حکم کے ماتحت اپنی امت کو ایک دعا سکھائی ہی نہیں بلکہ اس کے بار بار پڑھنے کی تاکید کی۔پھر معمولی تاکید نہیں۔بلکہ روزانہ اس کے پڑھنے کو فرض کر دیا۔اور سترہ دفعہ فرض کے علاوہ سنتوں اور نوافل میں بھی مقرر کیا۔حتی کہ یہ فرمایا کہ جو نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔۔۔وہ شخص جس نے دعا سکھائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور وہ دعا سورہ فاتحہ ہے۔جو شخص نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کی ہر رکعت میں پڑھتا ہے۔فرائض میں بھی۔سنتوں میں اور نوافل میں بھی۔قرآن کریم کی دوسری سورتوں کی نماز میں تلاوت بدلتی رہتی ہے۔تسبیح و تحمید کے الفاظ بدلتے رہتے ہیں۔اور دیگر دعائیں بدلتی رہتی ہیں۔مگر ایک سورہ فاتحہ ہے۔جو بدلتی نہیں۔قرآن کریم کا کوئی حصہ نہیں۔جو اس کی بجائے پڑھا جا سکے۔اگر قرآن کریم سارے کا سارا پڑھا جائے۔اور نماز میں فاتحہ کو چھوڑ دیا جائے۔تو سارے قرآن کریم کا اس کی بجائے پڑھنا کافی نہیں۔حالانکہ یہ کتنی مختصر سورۃ ہے۔صرف سات آیتیں ہیں۔اب غور کرنا چاہیے کہ کیا چیز ہے اس میں جس کی بنا پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس قدر زور دیا ہے۔سو یا د رہنا چاہئیے اس کا پہلا حصہ ثناء وحمد ہے۔اور دوسرا حصہ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کے طور پر ہے۔حمد وثناء بھی عام ہے اور دعا بھی عام ہے۔کوئی ضرورت اور کوئی حاجت نہیں جو اس سے باہر ہو۔لیکن سب سے زیادہ مستحق توجہ وہ بات ہے جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورہ میں اشارہ فرمایا ہے۔فرمایا کہ یہود و عیسائی بننے سے بچانے کے لئے ہے۔۲۔گو ساری دنیا کے مطالب اس میں ہیں۔مگر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امت محمدیہ میں یہودی و عیسائی نہ ہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں