خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 383

پہنچ جائے تو خبر نہیں کیا ہو جائے گا۔میں اس بات کو علی الاعلان سناتا ہوں تاکہ اہل حدیث کو بھی پہنچ جائے اور اس شخص کا دل خوش ہو جائے۔اصل جھگڑے کا فیصلہ تو حصہ داران سٹور کریں گے میں ان کی رائے پر اثر نہیں ڈالتا اس معاملہ کو وہ خود طے کریں گے لیکن ان امور پر جو میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا سلسلہ پر اثر ڈالتے ہیں ان کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اس خط میں اول میری سفارش نقل کی ہے میں نے اس میں لکھا ہے کہ میرے نزدیک سٹور کا کام جن لوگوں نے شروع کیا ہے وہ دیانتدار ہیں اس عبارت پر جہاں تک میں غور کرتا ہوں مجھے اس میں کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔اس میں کیا شک ہے کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں جب میں کوئی رائے دیتا ہوں تو وہ ان واقعات کی بنا پر ہوتی ہے جو میرے سامنے ہو رہے ہیں گو میں ان کو اب بھی دیانت دار ہی سمجھتا ہوں جب تک انکی بد دیانتی ثابت نہ ہو جائے۔لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں کہ میں عالم الغیب نہیں۔ضروری نہیں کہ میں کسی کی نسبت کوئی رائے دوں تو وہ ضرور درست ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون انسان ہو سکتا ہے مگر آپ بھی دنیاوی امور میں اپنی رائے کو حتمی نہ قرار دیتے تھے چنانچہ آتا ہے کہ مدینہ کے لوگ کھجوریں لگا رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ یوں کیوں لگاتے ہوں اس طرح کیوں نہیں لگاتے۔وہ لوگ اس رائے کو بھی ایک دینی مسئلہ سمجھے اور انہوں نے درخت اسی طرح لگا دیئے اس سال پھل نہ آنے پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اور عرض کیا کہ حضور اس دفعہ تو پھل ہی پیدا نہیں ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے خیال کے مطابق ایک بات کہی تھی۔یہ کوئی مذہبی بات تھوڑا ہی تھی کہ تم ضرور اس کو مانتے میں زمیندار نہیں ہوں تم اپنے دنیاوی امور کو زیادہ جانتے ہو۔۳۔پس اگر ان کارکنوں کی بد دیانتی ظاہر ہو جائے جن کی نسبت میں نے سفارش کی تھی۔تو بھی کہا جائے گا کہ وہ میری رائے غلط تھی۔اور یہ ایسی ہی غلطی ہوگی جیسی کہ رسول کریم سے ہوئی تھی۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو شخص جھگڑتے ہوئے آتے ہیں ممکن ہے کہ میں ایک شخص کی باتیں سن کر اس کے دھوکے میں آجاؤں اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں اس شخص کو اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہئیے۔کہ میں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ آگ کا ٹکڑا ہو گا جو میں اس کو دوں گا۔۴۔پس اگر کسی شخص کو رسول کریم دیانتدار اور سچا سمجھ سکتے ہیں جو در حقیقت دیانتدار اور سچا نہیں ہے تو پھر مجھ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ میں بھی کسی شخص کو اچھا سمجھ لوں اور وہ اچھا نہ ہو پس میں نے اگر سٹور کے کارکنوں کو دیانت دار لکھ دیا۔اور اب وہ تحقیقات کے بعد دیانت دار ثابت لیکن