خطبات محمود (جلد 7) — Page 371
٣١ ابھی دو تین دن کی بات ہے میں نے اپنے گھر میں سے دیکھا کہ ایک شخص نے کہا کہ ”اجی وہ تو حرام زادہ ہے اس وقت چار آدمی وہاں کھڑے تھے۔مجھے حیرت ہے کہ انہوں نے گالی دینے والے کو روکا نہیں۔وہ لوگ جو وہاں کھڑے تھے ان میں سے ایک کا مجھ کو نام بھی یاد ہے اور میں ان کا نام بھی لے دیتا ہوں۔وہ سید محمد اسماعیل دفتر کے تھے۔تین اور آدمی تھے۔اور یہ سمجھ دار آدمی تھے۔معمولی نہ تھے۔مگر گالی سنکر ان میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔گویا کہ کسی کو حرام زادہ کہنا بری بات نہیں تھی۔یہی تو وہ بات ہوتی ہے جو عوام کہا کرتے ہیں صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ یہ ذرا پیچیدہ بات ہے۔اور وہ لوگ تشریح سے یہی بات کہا کرتے ہیں۔جب بچے ایسی باتیں سنیں گے کہ داڑھی والے ایسے لفظ بولتے ہیں تو وہ ان الفاظ کے بولنے میں کچھ حرج نہیں سمجھیں گے۔مجھے اس شخص پر بھی حیرت آتی ہے کہ خدا کے غضب میں گرفتار اور رات دن بیماری میں مبتلا ہے۔جس سے عام طور پر اطباء مایوس ہو چکے ہیں۔اور مالی حالت اس کی بہت خراب ہے۔روز رقعے آتے رہتے ہیں کہ میری مدد کرو۔اور اس کے اخلاق کی یہ حالت ہے کہ بلاوجہ ایک شخص کو حرام زادہ کہتا ہے۔کیا وہ چاہتا ہے کہ اس پر اور لعنت پڑے۔اور خدا اس کو اور دوزخ میں اتار دے۔دوسرے لوگوں نے جو قریب ہی کھڑے تھے اس بات کو محسوس نہ کیا۔اس سے یہ بھی مطلب نکل سکتا ہے کہ ان کے دل میں اخلاق کی قدر نہیں۔لوگ گالیاں سنتے ہیں اور محسوس نہیں کرتے۔اور کوئی شخص نہیں کہ جو ان کو پکڑ کر کہے کہ اپنی خالت درست کرو۔اسی طرح جب لڑائی ہوتی ہے تو بڑے لوگ (بڑے سے میرا مطلب یہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگ) گندی گالیوں پر اتر آتے ہیں۔گالیاں تو سب ہی گندی ہوتی ہیں۔مگر ایسی جن کا گند کھلا ہو۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگ اوسط اخلاق کی حقیقت بھی نہیں سمجھتے۔میں ایسے لوگوں کو جو گالیاں دیتے ہیں منافق کہہ کر خوش ہو لیتا۔کیونکہ لڑائی میں گالی دینے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منافق کہا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ کثرت ایسے لوگوں کو ناپسند نہیں کرتی۔وہ لوگ ان کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھاتے ہاتھ اٹھانے سے یہ مطلب نہیں کہ ان کو مارتے نہیں بلکہ یہ کہ ان کو مناسب طریق پر روکتے نہیں۔اگر وہ خود روک نہیں سکتے تو کم از کم مجھ کو لکھتے۔تاکہ معلوم ہو کہ لوگ اس قسم کے لوگوں کو برا سمجھتے ہیں۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کی حرکتوں کو تمام صحابہ نا پسند کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی حرکتوں کو صحابہ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا جو خائن ہے بد گو ہے تم اس کے خلاف آواز اٹھاؤ اور اس کے خلاف رپورٹ کرو۔پھر کوئی شخص ایسے شخص کی حرکات کو تمہاری طرف منسوب نہیں کر سکتا۔منافقوں کی حرکتوں کو آج کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحابہ ایسے تھے۔کیونکہ تاریخوں میں محفوظ چلاتا ہے کہ صحابہ ایسے لوگوں سے نفرت