خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 354

۳۵۴ سورۃ فاتحہ میں اسی کی طرف توجہ دلائی گئی۔فرمایا اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم کہ کوئی قوم نہیں جو منعم علیہ ہو اور پھر مغضوب نہ ہوئی ہو۔اس لئے جہاں صراط المستقیم کی دعا کرتے رہو۔وہاں غیر المغضوب عليهم ولا الضالين بھی کہو۔یہ قومی زوال سے محفوظ رہنے کی دعا ہے۔کیونکہ افراد میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ولایت اور قرب الہی کے مقام سے تنزل کریں۔لیکن قومیں ہمیشہ اعلیٰ مقام سے تنزل کرتی رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اهدنا فرمایا ہے اهلنی نہیں فرمایا جس کو میں" کہتے ہیں وہ کم گمراہ ہوتا ہے۔ہاں جماعتیں گمراہ ہو جایا کرتی ہیں۔لوگ نیک ہوتے ہیں مگر ان کے بعد آنے والے ناخلف ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ "میں" کی جگہ "ہم" سکھایا۔چونکہ "میں" گمراہ نہیں ہو تا الا ماشاء اللہ۔اور "ہم" گمراہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے "ہم" کی حفاظت کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ "ہم" ترقی کر کے پھر گر نہ جائیں۔پس یاد رکھو کہ صحابہ کرام جو دعا کرتے تھے۔اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ میں ابوبکر ابو جہل نہ ہو جاؤں یا میں عثمان ابو جہل نہ ہو جاؤں یا میں علی ابو جہل نہ ہو جاؤں بلکہ یہ کہ قوم کہیں خراب نہ وہ جائے۔اور وہ مغضوب اور ضال نہ ہو جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مغضوب اور ضال کے متعلق پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ یہود اور نصاریٰ ہیں۔جن کی تم اتباع کرو گے۔اور فرمایا لتتبعن سنن الذين من قبلکم۔اور آپ نے اس قدر زور دیا کہ فرمایا تم ہر ایک وہ برا کام کرو گے۔جو وہ کرتے تھے۔یہ پیشگوئی آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لئے تھی چنانچہ اب دیکھ لو وہ کونسے عیب تھے۔جو یہود میں پائے جاتے تھے اور جن کی وجہ سے مسلمانوں کو ڈرایا گیا تھا۔وہ مسلمانوں میں نہیں پائے جاتے۔جس طرح وہ کتاب اللہ میں تغیر و تبدل کرتے تھے اسی طرح مسلمانوں نے تفسیروں میں کیا۔جس طرح وہ سبت میں اعتدی کرتے تھے۔اس طرح یہ سبت میں زیادتی کرتے ہیں۔سبت کے معنی راحت کے بھی ہیں۔جب مسلمانوں کو راحت ملتی ہے تو خدا کو بھول جاتے ہیں۔بڑے بڑے ہندو راجے بھی اپنے مندروں میں جاتے ہیں اور معبودوں کی پرستش کرتے ہیں لیکن مسلمانوں میں سے جس کو روٹی کھانے کو مل جاتی ہے وہ شداد کا ہمسر ہو جاتا ہے۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔کیا کوئی مسلمان نواب ہے۔جو میں مسجد میں آکر پانچوں وقت باجماعت نماز پڑھتا ہو۔یہ لوگ مسجد میں آنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔جس کو دیکھو فرعون کا بھائی بنا ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ان کے مقابلہ میں ہندو راجے کئی کئی گھنٹے تپسیا میں لگے رہتے ہیں۔اور ایسے موقع پر جس میں دنیا دار لوگوں کی غفلت ہو جاتی ہے وہ عبادت کو نہیں چھوڑتے ہمارے موجودہ بادشاہ جب دلی میں آئے تو اس وقت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی جو میرے ماموں ہیں۔کیمپ میں ڈیوٹی لگی