خطبات محمود (جلد 7) — Page 30
8 ہمارے لئے ایک ہی دروازہ کھلا ہے اور وہ خدا کی رحمت کا دروازہ ہے (فرموده ۱۱ مارچ ۱۹۲۱ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں جتنے واقعات ہوتے ہیں وہ دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ انسان سوچ بچار کر نیت اور ارادہ سے کرتا ہے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں۔کہ ان کے کرنے کے لئے حالات مجبور کر دیتے ہیں۔ارادہ اور نیت تو ان کے ساتھ بھی شامل ہوتی ہے۔لیکن ان میں بیرونی واقعات مجبور کر کے انسان کو ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں وہ کام کرنے پڑتے ہیں۔ابھی اسی زمانہ میں دیکھ لو دنیا کے تغیرات نے ان دو قوموں کو جو سالہا سال سے ایک دوسری کے خون کی پیاسی تھیں کس طرح اکٹھا کر دیا ہے۔ہندو مسلمانوں کی نسبت کہا تو یہ جاتا تھا کہ ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مگر یہ دونوں قومیں کبھی ایک مسئلہ پر اکٹھی نہ ہو سکتی تھیں۔ہر معالمہ میں ان کی رائیں مختلف ہوتی تھیں۔مگر اب حالات ایسے پیدا ہو گئے گونیت اور ارادہ بھی ساتھ شامل ہے۔کہ ہندو ایک طرف مسلمانوں سے صلح کرنے کے لئے مجبور ہو گئے۔اور مسلمان دوسری طرف ان سے صلح کے لئے مجبور ہو گئے۔ہندوؤں نے دنیا کی مالی ترقی دیکھ کر لوگوں کے جاہ و حشم کو دیکھ کر اور ان کی طاقت و قوت کو دیکھ کر خود بھی ویسا ہی بننے کی کوشش شروع کی۔پہلے کبھی انہوں نے ہندوستان سے نکل کر دوسرے ممالک کے حالات کو نہ دیکھا تھا کیونکہ ان کے ہاں آیا ہے کہ اگر کوئی سمندر پار جائے تو اپنے مذہب سے مرتد ہو جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے اب جبکہ انہوں نے غیر ممالک کی سیر کر کے وہاں کے لوگوں کو دیکھا امریکہ جاپان، انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں گئے۔اور معلوم کیا کہ کس قدر انہوں نے ترقی کر لی ہے۔ادھر یہ دیکھا کہ وہ علوم میں ترقی کر چکے ہیں اور یہ بھی دیکھا کہ ہم تعداد میں ۲۰ کروڑ کے قریب ہیں جو کہ یورپ کے بڑے سے بڑے ملک کی۔