خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 336

بھی روز نہ ہب بدلتا اور اس طرح ایمان کو تلاش کرتا اور اسے کچھ نہ ملتا۔اور ممکن ہو تا کہ اس کا پتہ تو مل جاتا۔لیکن جب اس پر عمل کرنے کا زمانہ آتا تو مرجاتا۔تو اس طرح انسان کی حالت خطرہ میں ہوتی۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہے اس لئے فرمایا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جو مردہ ہو اور خدا اسے زندہ کرے (ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان زندہ ہو جاتا ہے) اور ایک اندھیرے میں دکھ اور تکلیف میں ہو۔یہ دونوں برابر ہوں۔ظلمات کے معنی موت کے بھی ہیں۔کہ قبر میں جب انسان جاتا ہے تو تاریکی میں ہوتا ہے۔اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک جو مردہ تھا اسے زندہ کر دیا۔اور ایک ایسے اندھیرے میں جا پڑا جہاں سے نکل نہیں سکتا یعنی وہ مر گیا۔اور قبر میں دفن ہے۔ایک کی تو یہ حالت ہے اور دوسرے کی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں شمع ہے۔جس سے وہ آپ ہی روشنی میں نہیں ہے بلکہ دوسروں کو بھی روشنی دکھاتا ہے۔کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔کوئی بھی دنیا میں ایسا انسان نہیں ہوتا جو یہ کہے کہ ایک ایسا شخص ہو جس کے ہاتھ میں مشکل ہو۔جس سے اندھیری رات میں لوگوں کو رستہ دکھائے۔اور ایک ایسا ہو جو مٹی میں دفن ہو۔کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ایک بچہ بھی جو ابھی بولنے لگا ہو وہ بھی ان میں فرق کر سکے گا۔اگر اسے کہو کہ یہ آدمی تمہیں گھر چھوڑ آئے یا یہ قبر والا۔تو وہ یہی کہے گا که یه آدمی چھوڑ آئے۔پس جس طرح ان میں فرق ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اسی طرح مومن اور کافر میں فرق ہے۔مردہ اور زندہ میں کیا فرق ہوتا ہے۔یہ کہ زندہ ترقی کرتا ہے۔اور مردہ تنزل کرتا ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ مردہ کو اگر کوئی نقصان پہنچائے تو اسے دور نہیں کر سکتا۔لیکن زندہ اپنے نقصان کے علاوہ دوسروں کے نقصانوں کو بھی دور کر سکتا ہے۔مومن اور کافر میں بھی یہی فرق ہوتا ہے۔کافر کی حالت نہیں بدلتی اگر بدلے تو برائی کی طرف ہی جاتی ہے۔جیسے مردہ کی حالت بدلے گی تو بدبو ہی پیدا ہوگی۔مگر زندہ ترقی کرتا ہے اور مردہ گرتا ہے۔فرمایا یہی حالت مومن اور کافر کی ہوتی ہے۔مومن ترقی کرتا ہے اور کافر گرتا ہے۔پھر یہ فرق ہے کہ کافر اپنے آپ کو بھی نقصان سے نہیں بچا سکتا۔مگر مومن دوسروں کو بھی بچاتا پھرتا ہے۔کافر کے گرنے کی یہ حالت ہوتی ہے کہ کل اگر اس کے اخلاق برے تھے۔تو آج اور بد تر ہوں گے کل اگر اس نے اسلام قبول نہیں کیا تو آج بھی اسلام قبول کرنے سے دور ہو گا۔مگر مومن کا تعلق خدا تعالیٰ سے روز بروز بڑھتا جاتا ہے کوئی لمحہ نہیں گذرتا کہ پہلے کی نسبت اور خدا تعالیٰ کے نزدیک نہ ہوتا ہو۔یہ مومن اور کافر میں فرق ہے۔خدا تعالی ایک اور فرق مومن اور کافر میں یہ بیان کرتا ہے کہ وجعلنا له نورا خدا تعالی کی طرف سے اس کو فور ملتا ہے۔علاوہ اس کے کہ وہ خود