خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 314

دی جنگ سر پر پہنچ جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مکہ والوں نے منصوبہ کیا کہ آپ سے ایک مذہبی جنگ کریں۔اور چاہا کہ ایک خدا کے بندوں کو اس کی عبادت اور بندگی سے ہٹا کر بتوں اور مردوں کے آگے ڈال دیں۔اب وہ شخص جو بعث بعد الموت پر ایمان لاتا ہے۔اور جو یقین رکھتا ہے۔کہ روح مرتی نہیں۔بلکہ ہمیشہ زندہ رہے گی اور یہ زندگی اس آنے والی زندگی کے مقابلہ میں بہت مختصر ہے۔وہ کب گوارا کر سکتا ہے کہ یہاں خدا پرستی چھوڑ کر بت پرستی اختیار کرے۔اس کی نظر میں اس دنیا کی کچھ بھی وقعت نہیں ہوگی۔وہ خدا کے تعلق کے مقابلہ میں ہر ایک تعلق کو موت خیال کرے گا۔پس چونکہ وہ جسم کے ساتھ روح کو بھی پامال کرنا چاہتے تھے۔اس لئے ان کی تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی۔کہ ان کے روحانی حملے کو دفع کریں۔اور یہ جنگ اس لئے کی گئی کہ اس چھوٹی جنگ کے ذریعہ بڑی جنگ اور بڑی آفت سے مقابلہ نہ کرنا پڑے۔آنکھ میں کاسٹک لگانا صحت نہیں بلکہ اس کے ذریعہ جو مادہ خارج ہوتا ہے اس سے صحت ہوتی ہے۔پلٹس یا نشتر سے صحت نہیں ہوتی بلکہ اندرونی فساد کے مقابلہ میں ایک چھوٹی خراش پیدا کی جاتی ہے جس کے ذریعہ فاسد مادہ خارج ہو کر صحت ہو جاتی ہے۔پس یاد رکھو کہ بعض دفعہ چھوٹی جنگیں بڑی جنگ سے بچنے کے لئے کی جاتی ہیں۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ فساد بھی امن کا ذریعہ ہے۔یا امن ہی ضروری چیز نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں امن ہی ایک بڑی چیز ہے۔اور اسی کی تلاش ساری دنیا کو ہونی چاہیے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ امن قائم رکھے۔مسلمان کے دو نام ہیں۔تیسرا نام ہمیں قرآن کریم سے نہیں معلوم ہوتا۔ایک مومن دوسرا مسلم۔ان دونوں لفظوں کے یہی معنی ہیں کہ لوگوں کو امن دینے والا۔مسلم سلامتی سے نکلا ہے اور مومن امن سے۔اسلام کی غرض یہ ہے کہ امن دنیا میں قائم کیا جائے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے بہت دفعہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے مگر ایمان اور اسلام کی علامت یہ ہے کہ اگر موقع ہو تو نقصان اٹھا کر بھی امن قائم رکھا جائے۔یہ مت خیال کرو کہ امن قائم کرنے والے کو دنیا کچل دے گی۔جب تک خدا کے احکام کی پیروی کرتے ہو تو تم تباہ نہیں ہو سکتے اگر الہی احکام کی پابندی کرتے ہوئے تم ہلاک ہو جاؤ تو اس سے یہ ثابت ہو گا کہ کوئی خدا نہیں کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا ایک حکم دے اور انسان اس کی پابندی کرے اور پھر اس کو ہلاک اور برباد ہو جانے دے۔اگر کوئی شخص اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے میں کچلا جاتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ اسلام جھوٹا ہے۔اس بات کو فطرت مان ہی نہیں سکتی کہ ایک خدا ہے۔اور وہ اپنے تخت حکومت پر ہے۔اور وہ دیکھ رہا ہے کہ ایک شخص اس کے دین کی اشاعت میں سرگرم ہے اور اپنی ہر ایک چیز اس کی راہ میں قربان کر رہا ہے۔دراں حالیکہ وہ ہر طرح