خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 315

۳۱۵ چست ہے۔اور ہوشیار ہے اور اس میں کوئی سستی نہیں وہ محض خدا کے لئے کرتا ہے۔مگر وہ اس کو تباہ ہو جانے دے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والا تباہ ہو جائے۔اگر شریر لوگ کسی امن پسند انسان سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہیں اور شرارت سے باز نہ آئیں تو پھر ان سے جنگ جائز ہے۔مگر اس جنگ کی حیثیت وہی ہے جو نشتر اور پولٹس کی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبہ کی اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا کہ یہ دب کر صلح کی گئی۔جیسا کہ ہمارے متعلق کہا جاتا ہے۔بعض صحابہ کا خیال تھا کہ اسلام کے حقوق کی پوری حفاظت نہیں کی۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا تھا وہ خدا تعالی کی تعلیم کے مطابق کیا۔اس لئے آپ کو اس سے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس معاہدے کی دو شرطیں ایسی تھیں جن کو کمزور خیال کیا جاتا تھا ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور آنحضرت سے جدا ہو کر مکہ والوں کے پاس چلا جائے گا تو وہ واپس نہ لیا جائے۔اور اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر آنحضرت کے پاس چلا آئے تو آپ اس کو مکے والوں کے پاس واپس کردیں گے۔بظاہر یہ کمزوری کی شرط تھی۔مکہ والوں میں سے بعض شخص مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئے۔اور ان کے تعاقب میں مکہ کے لوگ آئے۔جب وہ مسلمان آنحضرت کی خدمت میں پہنچے تو کافروں نے کہا کہ آپ کا معاہدہ ہے کہ آپ مکہ سے آنے والوں کو واپس کر دیں گے۔اپنے معاہدہ کو پورا کیجئے آپ نے فرمایا نبی معاہدہ شکن نہیں ہوتے آپ اس کو لے جائیں۔وہ لے گئے مگر اس نے ایک کو موقع پا کر راستہ میں قتل کر ڈالا اور دوسرا بھاگ گیا۔پھر آنحضرت کی خدمت میں آیا۔اور عرض کیا کہ آپ نے اپنا معاہدہ پورا کر دیا۔اب میں خود بیچ کر آیا ہوں۔آپ نے فرمایا تم چلے جاؤ۔ہم معاہدہ کے خلاف نہیں کر سکتے۔وہ وہاں سے بھاگ کر شام کے اس راستہ پر بیٹھ گیا۔جہاں سے مکہ والوں کے قافلے گذرتے تھے۔اور مکہ سے اور نو مسلم بھی آ آکر اس سے ملتے گئے۔اور چونکہ ان سے ان کی جنگ تھی اس لئے انہوں نے مکہ والوں کے قافلے لوٹنے شروع کئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ والوں نے خود عرض کیا کہ آپ ان کو بلا لیجئے اور ہم اس شرط سے باز آئے۔وسری شرط یہ تھی کہ جو قوم جس سے ملنا چاہے وہ اس سے مل جائے۔ان کو خیال تھا کہ لوگ آنحضرت سے خوف کی وجہ سے ملتے ہیں۔جب ہم نے یہ شرط منوالی تو سب لوگ آپ سے جدا ہو کر ہم سے مل جائیں گے۔مگر جب یہ شرط ہوئی تو کچھ قبیلے آپ سے مل گئے اور کچھ مکہ والوں سے مل گئے۔اور یہ بھی شرط تھی کہ ایک دوسرے کے حلیف پر بھی حملہ نہیں کیا جائے گا۔مگر مکہ والوں نے آنحضرت کی ایک حلیف قوم پر شب خون مارا۔اور ان کے بہت سے آدمیوں کو قتل اور زخمی کیا۔یہ کوئی پوشیدہ رہنے والی بات نہ تھی۔آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے مکہ پر چڑھائی کر دی۔وہ رو