خطبات محمود (جلد 7) — Page 309
سکتی۔ہوشیار آدمی ہوشیاری سے کام کرتا اور کامیاب ہوتا ہے۔لیکن اگر ہوشیاری کے ساتھ دیانت بھی شامل ہو جائے تو پھر یہ بہت اعلیٰ درجہ کی بات ہوتی ہے۔اگر ہوشیاری نہ ہو بلکہ ستی ہو تو پھر کامیابی مشکل ہے اور پھر فائدہ اٹھانے کی خواہش ایک مخفی بددیانتی ہے۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ہر ایک بات میں بڑھ کر رہیں۔مومن غیرت مند ہوتا ہے۔اور وہ کسی بات میں کسی سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتا۔حضرت شاہ اسماعیل شہید دہلوی) کا ایک واقعہ ہے ان کو معلوم ہوا کہ ایک سکھ ہے جو تیرنے میں بہت مشاق ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ سن کر آپ تیرنے کی مشق کرنے لگے۔اور اس میں ایسا کمال حاصل کیا کہ کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔یہ انہوں نے اس لئے کیا کہ کوئی غیر مسلم مسلمانوں سے کسی کام میں کیوں بڑھ جائے تو مومن چھوٹی چھوٹی باتوں میں غیرت رکھتا ہے۔اور ہر ایک بات میں خواہ وہ دین کی ہو یا دنیا کی دوسروں سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ہمیں شبہ نہیں کہ دنیا الگ ہے اور دین الگ۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دنیادی باتوں کا اثر دین پر پڑتا ہے جو شخص دنیا میں مست ہو وہ دین میں بھی ست ہوتا ہے جو دنیاوی کام کرنے میں ست ہے وہ تہجد کے لئے کب اٹھے گا۔اور وہ آہستہ آہستہ سنتوں کا بھی تارک ہو جائے گا اور فرائض کو بھی جواب دے دے گا۔کیونکہ سستی ایک ہی چیز ہے۔اور وہ دونوں جگہ کرے گا۔دنیا میں بھی اور دین میں بھی۔ولایت میں نفع کی حد بندی کی گئی ہے مثلاً اس حد تک نفع جائز ہے اور اس کے آگے ناجائز۔اور وہاں نفع مقرر کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ چیز عام مقابلہ میں آجائے اس وقت جو قیمت ٹھہر جائے وہ اصل قیمت ہو۔اور اس میں یہ بات بھی مد نظر رکھی جاتی ہے کہ بیچنے والے آپس میں سمجھوتہ نہ کرلیں۔یعنی یہ نہ ہو کہ دس پندرہ دوکاندار آپس میں فیصلہ کرلیں کہ اس قیمت پر فروخت کریں گے اگر یہ ہو تو یہ ناجائز ہے۔اور سمجھوتہ کر کے جو نفع حاصل کیا جائے۔وہ بھی ایک قسم کی جھنگی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص زائد نفع اپنی لیاقت سے حاصل کرتا ہے تو وہ جائز ہے۔مثلاً لوگ عموماً امرتسر سے چیزیں لاتے ہیں۔اور ایک نرخ پر یہاں بیچتے ہیں۔دوسرا شخص اگر دلی سے اس سے ستی لاکر اس نرخ پر یہاں بیچتا ہے اور دوسروں کی نسبت زیادہ نفع کماتا ہے تو اس پر الزام نہیں یا کراچی میں ایک چیز بہت سستی ملتی ہے اور ایک شخص وہاں سے لاتا ہے جو یہاں بہت سستی پڑتی ہے پھر اگر وہ بازار کے عام نرخ پر بیچ کر تمام بازار والوں سے زیادہ نفع لیتا ہے تو اس پر الزام نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر دکانداروں کے متعلق جو شکایات ہوتی ہیں ان میں بعض غلط