خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 310

۳۱۰۔بھی ہوتی ہیں مگر بعض درست بھی۔بعض دوکانداروں کا یہ کہنا کہ ہمارا حق ہے کہ ہمارے بھائی ہم سے چیزیں خریدیں۔یہ سچ ہے کہ ان کا حق ہے کہ ان کے بھائی ان سے چیزیں خریدیں۔مگر بھائیوں کا بھی تو حق ہے کہ تم ان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ۔اس سے؟ سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ۔اس سے بری بات کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنا حق یاد رکھے مگر دوسرے کا حق بھول جائے۔حالانکہ مومن کی یہ شان ہے کہ وہ اپنا حق بھلا دیتا ہے۔اور دوسروں کا حق جو اس پر ہو یا د رکھتا ہے۔صحابہ کرام دوسرے کے حق کو خوب یاد رکھتے تھے۔روایات میں آتا ہے کہ ایک گھوڑا ایک صحابی بیچنے لگے۔اور اس کی قیمت انہوں نے مثلاً دو ہزار مقرر کی۔دوسری طرف جو صحابی خریدار تھے وہ چار ہزار بتاتے تھے۔اور ان میں اسی بات پر جھگڑا تھا۔کہ مالک کم قیمت بتاتا اور خریدار زیادہ دیتا۔تو مومن کا طریق یہ ہے کہ وہ دوسرے کے حقوق کا بہت خیال رکھتا ہے۔جب دوسرے کے حقوق کا خیال لازمی ہے۔اور بددیانتی منع ہے تو مومن کے لئے کس قدر لازمی ہے کہ وہ ہوشیاری اور چستی سے کام لے۔دوکانداروں کا یہ کہنا غلط ہے کہ ہماری چیز ہے ہم اس کی جو قیمت چاہتے ہیں مقرر کرتے ہیں۔نہ یہ اصولا درست ہے نہ اخلاقا درست ہے عام طور پر دوکاندار یہ غلطی کرتے ہیں کہ اپنی ناواقفیت سے جتنے کو چیز ملتی ہے لے آتے اور سستی اور عمدہ تلاش نہیں کرتے۔اور پھر اس کا اثر خریدار پر ڈالتے ہیں۔اگر انہیں اپنی سستی کا خمیازہ بھگتنا پڑے اور عام بھاؤ پر بیچ کر نقصان ہو۔تو آئندہ کے لئے ہوشیار ہو جائیں۔مگر ابھی تک لوگ اس گر کو نہیں سمجھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ نہ خود اچھی طرح دوکان چلا سکتے ہیں اور نہ ان کے خریدار ان سے خوش ہوتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوکان بند ہو جاتی ہے۔میں تو یہ خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی احمدی کہلانے والا جان بوجھ کر دھوکہ دیتا ہے۔کیونکہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ کوئی احمدی ہو اور پھر جان بوجھ کر دھوکہ دے۔میرا دل ہی اس قسم کا نہیں بنایا گیا کہ میں کسی کے متعلق ایسا خیال کروں ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ غفلت یا ناواقفی سے ان لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں۔لیکن غفلت سے بھی جو جرم ہو وہ جرم ہی ہوتا ہے۔اور اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی کو گولی مارتا ہے۔اور بعد میں کہتا ہے کہ میں نے جانور سمجھا تھا۔اگر یہ درست ثابت ہو جائے تو گو اسے پھانسی کی سزا نہ ملے۔مگر سزا ضرور ملے گی۔اسی طرح اور باتوں میں ہوتا ہے۔پس تم غفلت کو دور کرو تا دنیا کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر سکو۔حضور جب دوسرے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا۔کہ کوئی شخص خطبہ کے دوران بولا تھا اسے جو کچھ کہنا ہے اب کہہ لے۔عرض کیا گیا کہ کسی نے بلند آواز سے دعا کی تھی۔فرمایا جب امام بلائے۔تو بولنا جائز ہے۔ورنہ خطبہ کے دوران میں بولنا سخت غلطی اور گناہ عظیم ہے۔۔۔اگر دعا