خطبات محمود (جلد 7) — Page 273
نا واقف باوجود خطرے سے نکالنے کی نیت اور ارادے کے اس کی جان لے لیتا ہے۔اسی طرح سپاہی چند روپیہ لیکر مشق کی بنا پر دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔اور ایسے ایسے لوگوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے مضبوط اور طاقت ور ہوتے ہیں لیکن جس کو مشق نہ ہو وہ اپنی جان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔اسی طرح تیراک کی مثال ہے وہ محض تفریح یا گرمی میں چند منٹ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے تیرتا ہے مگر ایک دوسرا شخص جو تیرنا نہیں جانتا وہ اگر دریا میں پڑ جائے تو اپنی جان کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا۔سمندر کے کناروں پر بعض اقوام کے بچے پیسہ دو پلیسہ کے لئے غوطہ لگاتے ہیں۔لوگوں کو کہتے ہیں کہ پانی میں پیسے ڈالو ہم نکالیں گے اور قبل اس کے کہ پیسہ زمین پر جائے نکال لاتے ہیں۔مگر ایک دوسرا شخص جو تیرنا نہیں جانتا۔اپنے ڈوبتے ہوئے بیٹے کو نہیں بچا سکتا۔اور اگر ڈوب چکا ہو تو اپنے مردہ بچہ کی لاش بھی نہیں نکال سکتا۔کہ خشکی پر دفن کر سکے۔اس سے ثابت ہوا کہ جن کو کسی کام کی مشق ہو۔ان کے نزدیک مشکل سے مشکل کام آسان ہوتا ہے۔اور جن کو مشق نہ ہو وہ خطرہ کے وقت اپنی یا اپنے بچہ کی عزیز جان باوجود کوشش کے بھی نہیں بچا سکتے۔پس شریعت نے جو احکام دئے ہیں ان میں بعض کرنے کے متعلق ہیں اور بعض نہ کرنے کے متعلق ہیں اور ان کا مرکز نماز اور روزہ ہیں۔تاکہ انسان ان کے ذریعہ اس بات کی مشق کرے کہ جب کوئی خدا کا حکم آئے گا تو میں وہ بجالاؤں گا۔اور جس کام سے رکنے کے متعلق حکم آئے گا اس سے رک جاؤں گا۔جب یہ مشق ہوگی تو وقت پر کامیاب ہوگا اور اگر مشق نہیں ہوگی تو موقع آنے پر رہ جائے گا۔دیکھو جب سپاہی سے خندق کھدوائی جاتی ہے۔اس وقت اگر کوئی کہے کہ یہ کیا فضول حرکت ہے کونسا اس کے سامنے دشمن آگیا ہے۔تو یہ اس کی نادانی اور نادا قفی ہوگی۔کیونکہ سپاہی سے خندق کھدوانا اور چاند ماری کرانا اور محنت کے کام لینا اس کے قدم کو جنگ میں مضبوط کر دیتا ہے۔اور جب موقع آتا ہے تو انہی خندقیں کھودنے اور چاند ماری کرنے کی وجہ سے دشمن سے خوب مقابلہ کرتا ہے لیکن جو آرام کرتے ہیں اور ان کو مشق نہیں ہوتی وہ لڑائی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔مشہور ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کہاں تک درست ہے۔کہ ایک بے وقوف بادشاہ کو خیال آیا کہ فوجوں پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے کیوں نہ فوجوں کو توڑ دیا جائے اور وقت ضرورت قصائیوں سے کام لیا جائے۔یہ بھی تو خون بہاتے رہتے ہیں۔چنانچہ فوجیں توڑ دی گئیں۔اس کا سب غنیم کو علم ہوا تو وہ چڑھ آیا۔اور بادشاہ نے ملک کے قصائی جمع کرکے انہیں مقابلہ کے لئے بھیجا۔لیکن وہ واپس بھاگ آئے۔جب بادشاہ نے بھاگ آنے کی وجہ پوچھی تو کہا بادشاہ سلامت وہ