خطبات محمود (جلد 7) — Page 262
بھیجتا ہے۔ان سے منہ موڑ لیتا ہے۔اور اپنے ہاتھوں خدا کے فضل اور رحم کے رستے بند کر لیتا ہے۔لیکن خدا پھر بھی اس پر رحم کرتا ہے۔انسان اسے چھوڑتا ہے۔مگر وہ نہیں چھوڑتا انسان بند کرتا ہے۔مگر وہ نہیں بند کرتا انسان منہ پھیرتا ہے مگر خدا نہیں منہ پھیرتا۔وہ ہر وقت اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا اور کہتا ہے کہ اگر تو کل نہیں آیا تو آج آجا۔مگر انسان پھر رد کر دیتا ہے۔رسولوں اور خلفاء کا ہاتھ خدا ہی کا ہاتھ ہے۔جسے انسان کاٹنا چاہتا ہے۔کتوں کی طرح بھونکتا ہے۔مگر وہ پھر یہی کہتا ہے اچھا اب آجاؤ۔اور انسان پھر رد کر دیتا ہے۔کوئی خوش قسمت ہوتا ہے جو مان کر مرتا ہے۔اور اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں دنیا کے آرام اور دنیا کی بادشاہتیں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔اور اگر نہیں مانتا تو اس کی وہی حالت ہوتی ہے جو بادشاہ کے باغی کی ہوتی ہے۔یہ مضمون بہت وسیع تھا۔لیکن چونکہ تمہید میں ہی بہت وقت لگ گیا۔اس لئے اگلے جمعہ پر رکھتا ہوں۔ان رستوں میں سے جن پر چل کر انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ایک رمضان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یا ایها الذین امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون (البقره ۱۸۴) اے مومنو! جس طرح تم سے پہلوں پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔اسی طرح تم پر بھی تمہارے فائدہ کے لئے فرض کئے گئے ہیں۔مگر کتنے ہیں جو اپنے فائدہ اور نفع کے لئے روزے رکھتے ہیں۔بہت ہیں جو اس لئے روزے رکھتے ہیں کہ لوگ کہیں گے فلاں روزے نہیں رکھتا۔بہت ہیں جو اس لئے روزے رکھتے ہیں کہ انہیں عادت ہو گئی ہے۔اگر نہ رکھیں تو بے اطمینانی ہوتی ہے۔چونکہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے اس لئے جس طرح انیمی افیم نہ کھائے تو اسے گھبراہٹ ہوتی ہے۔اسی طرح ان کی حالت ہوتی ہے۔پھر بہت سے ہیں جو رکھتے ہی نہیں اور بہت سے ہیں جو ان شرائط کے ساتھ نہیں رکھتے جو خدا نے مقرر فرمائی ہیں۔روزہ رکھ کر گالی گلوچ کرتے۔دنگہ فساد کرتے دوسروں کا مال کھا جاتے۔ایسے لوگ روزہ نہیں رکھتے بلکہ بھوکے مرتے ہیں۔پھر بہت سے ہیں جو ایسی حالت میں روزے رکھیں گے جس میں خدا کہتا ہے نہ رکھو۔جیسے بیماری اور سفر میں۔غرض کئی رکھتے ہی نہیں۔کئی شرائط بجا نہیں لاتے۔کئی جہاں خدا کہتا ہے نہ رکھو۔وہاں رکھتے ہیں اور تھوڑے ہیں جو ان شرائط کے مطابق رکھتے ہیں۔جو خدا نے مقرر کی ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ جو باتیں خدا نے بتائی ہیں۔ان کے مطابق روزے رکھیں۔باقی تفصیل خدا نے چاہا تو پھر بیان کر دی جائے گی۔الفضل ر مئی ۱۹۲۲ء)