خطبات محمود (جلد 7) — Page 244
۲۴۴ موجودہ علم نے چار اور جو اس دریافت کئے ہیں اور اب ؟ جو اس سمجھے جاتے ہیں حالانکہ حس ایسی چیز ہے کہ ہر ایک کو معلوم ہو سکتی ہے۔مگر اس کا بھی پورا پتہ نہ لگا۔مثلاً یہ معلوم نہ تھا کہ گرمی سردی محسوس کرنے کی بھی حس ہوتی ہے۔اور لوگ یہ نہ جانتے تھے کہ بعض اعصاب ایسے ہوتے ہیں۔جو گرمی کا پتہ لگاتے ہیں اور بعض سردی کا۔یا کہ ایسے اعصاب ہیں جو بتاتے ہیں کہ فلاں عضو کہاں ہے۔جس طرح اعصاب کے ذریعہ سفید، سرخ، نرم، سخت اونچی نیچی آواز معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔کہ ہاتھ کہاں رکھا ہے اور پاؤں کہاں۔مگر پہلے معلوم نہیں تھا کہ یہ بھی کوئی حس ہوتی ہے۔اور اگر یہ ماری جائے تو پھر انسان کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کا ہاتھ کہاں ہے اور پاؤں کہاں جس طرح جب ناک کی جس ماری جائے تو خوشبو اور بدبو کا پتہ نہیں لگتا۔اسی طرح یہ حس ہے۔جو ماری جائے۔تو انسان بتا نہیں سکتا کہ اس کا ہاتھ کہاں اور پاؤں کہاں ہے۔نہیں جب انسان نے اپنے نفس کے متعلق ہی تحقیقات نہیں کی بلکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ میں کیا ہوں تو خدا تعالیٰ کے متعلق وہ کیا اندازہ لگا سکتا ہے۔ہمارے ہاں بچے ایک کھیل کھیلا کرتے ہیں۔معلوم نہیں اور جگہ کھیلتے ہیں یا نہیں۔مگر وہ بچوں کی کھیل ایسی ہے کہ یہی سوال ہے جس پر فلاسفر بھی حیران ہیں اور اس کا کوئی حل ان کے پاس نہیں ہے ایک لڑکے کو کہتے ہیں ہم میں سے کسی کو پکڑو۔اور جب وہ پکڑتا ہے۔اور کسی عضو پر ہاتھ رکھتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے۔مثلاً اگر ہاتھ کو پکڑا تو کہ دیا یہ تو ہاتھ ہے میں نہیں۔اگر کمر کو پکڑا۔تو کہدیا یہ تو کمر ہے میں نہیں اگر گلے کو پکڑا تو کہدیا یہ تو گلا ہے میں نہیں جس طرح بچوں کی کھیل میں یہ پتہ نہیں لگتا کہ ”میں " کیا ہے۔اسی طرح فلاسفر اپنی تحقیقات میں حیران ہیں کہ میں کیا چیز ہے آج تک اسی کو دریافت نہیں کر سکے۔پس جو "میں" کو دریافت نہیں کر سکتا۔وہ اگر کہے کہ اپنی عقل سے خدا کو دریافت کر لوں گا۔تو کیسا نادان ہے۔جب اس ہستی کا احاطہ اپنی عقل سے کرے گا۔تو ٹھوکر کھائے گا۔لیکن عجیب بات ہے۔کہ جب کوئی نبی اگر خدا تعالیٰ کی حقیقت بیان کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں ہم نہیں مانیں گے۔آپ اپنی عقل سے اندازہ لگا لیں گے۔گویا ان کی حالت بچوں کی سی ہوتی ہے۔جس طرح ایک چھوٹے بچے کو جب کچھ کھلانے لگیں۔تو بعض اوقات وہ کہہ دیتا ہے میں خود کھاؤں گا۔اور ہاتھ منہ بھر لیتا ہے۔اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کا اندازہ اپنی عقل سے لگاتے ہیں۔اور انبیاء کی راہ نمائی قبول نہیں کرتے۔وہ ہزاروں غلطیاں کرتے ہیں اور سینکڑوں ٹھوکریں کھاتے ہیں۔اور یہاں تک گر جاتے ہیں کہ ایسی قومیں ہیں جو کئی کئی خدا مانتی ہیں اور یقین رکھتی ہیں کہ خدا مگر مجھ ، سنور وغیرہ جانوروں کے بھیس میں ظاہر ہوا۔پھر اس سے بھی بڑھ کر ایسے لوگ ہیں کہ جن کے خیالات علمی طور پر بھی ظاہر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔انہوں نے خدا کو نہایت ہی مکروہ اور فحش طور پر