خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 218

نقص ہے۔اخلاقی جرائم بھی دیر میں جاکر حرام اور ممنوع قرار دئے جاتے۔اسلام میں شراب کئی سال کے بعد حرام ہوئی۔بعض ممالک میں تمدنی حالت بہت پیچھے تھی۔اس لئے شراب حرام نہیں ہوئی۔مثلاً ٹھنڈے ملک تھے۔جسم کو گرم کپڑے سے نہیں ڈھانک سکتے تھے۔اس لئے سردی کے احساس کو کم کرنے کے لئے شراب پیتے تھے۔ممکن ہے اور احکام بھی دیر میں دئے گئے ہوں یا نہ دئے گئے ہوں۔مگر اس کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔کہ جھوٹ وغیرہ دیر سے منع کئے گئے ہوں۔خواہ کوئی نبی کبھی آئے ہوں۔مذہب کا اخلاقی حصہ فوراً درست کرتے ہیں۔جھوٹ وغیرہ کو فورا منع کرتے ہیں۔کیونکہ اس کے لئے بہت مشق اور بہت کوشش کی ضرورت نہیں۔بعض لوگ اس میں سستی کرتے ہیں۔اور خوش ہیں کہ وہ نئے نئے جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔لیکن جس طرح ممکن نہیں کہ آنکھ جس کی بینائی سلامت ہو کھولی جائے اور روشنی نظر نہ آئے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ روشنی یا تاریکی زیادہ نظر آئے۔مگر سلامت بینائی والی آنکھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ روشنی کو بالکل نہ دیکھ سکے۔یہی حالت اخلاق کی ہے۔جب تک اخلاقی طاقت موجود ہے۔تبدیلی کا فوراً اثر ہوتا ہے۔تو یہ ظاہری تغیر ضروری اور لازمی ہوتا ہے۔جب تک یہ تغیر ظاہر نہ ہو۔دنیا پر ایمان کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں ہو تا۔ذاتی کمزوری اگر چہ دور ہونے میں دیر ہو۔مگر وہ باتیں جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں فوراً نمایاں تغیر ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس بارے میں ہماری جماعت میں ابھی میں بار بار اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔دیکھو ایک طرف ہماری جماعت کا دعوی ہے کہ یہ برگزیدہ جماعت ہے مگر حقوق کا اختلاف بھی ہوتا ہے جن سے دکھ پہنچتا ہے۔غیر سے معاملہ میں سستی بری بات ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دیانت کا معیار بھی ہم پر نہیں ظاہر ہوا۔بعض لوگ آتے ہیں اور وہ اپنی دانست میں جس کو دیانت قرار دیتے ہیں۔میرے نزدیک وہ بددیانتی ہوتی ہے۔جس کو وہ رحم کہتے ہیں در حقیقت وہ ظلم ہوتا ہے۔تغیر وہ ہوتا ہے کہ دشمن بھی محسوس کرے۔نہ یہ کہ دوست کو بھی محسوس نہ ہو۔حالانکہ دوست تو کمزوری کو بھی پسند کرتا ہے۔یہ تو دشمن ہی ہوتا ہے۔جو نیکی کو بدی دیکھتا ہے۔اس لئے تمہاری نیکی ایسی ہونی چاہئے کہ تمہارا دشمن انکار کرتے کرتے تھک جائے۔نہ یہ کہ تمہاری نیکی کو تمہارا دوست بھی محسوس نہ کرے۔تمہارا اخلاقی تغیر نمایاں ہونا چاہئیے۔تمہاری ہمدردی عام۔تمہارا رحم عام ہو۔حسن سلوک خوش معاملگی نمایاں ہو۔اموال میں دیانت و امانت ہو۔اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کی اخلاقی حالت اچھی ہے مگر جب تک بہت اچھی نہ ہو۔فخر کی بات نہیں۔اندھے کے مقابلے میں وہ اچھا ہے جو سفیدی دیکھ سکتا ہے مگر دونوں سالم آنکھوں والے کے مقابلہ میں اس کے لئے جائے فخر نہیں۔اسی طرح یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم نسبتاً دوسروں سے اچھے ہیں۔بعض معیار دیانت اور بددیانتی کو