خطبات محمود (جلد 7) — Page 195
۱۹۵ بچپن میں ایک کہانی میں سنتے تھے۔آپ لوگوں نے بھی سنی ہوگی۔کئی طرح بیان کی جاتی ہے۔میں نے جو سنی تھی وہ یہ ہے کہ ایک بچہ باہر نکلا۔اس کے سامنے ایک جن پھول بن گیا۔جب وہ اسے پکڑنے لگا تو پھول پیچھے ہٹ گیا۔جب وہ اور آگے بڑھا تو پھول اور پیچھے ہٹ گیا۔یہ دراصل آئندہ کی ترقیاں ہی ہوتی ہیں۔جو جن کے پھول بننے کی طرح پھول بن کر آتی ہیں۔اور سال کے وقفہ پر کھڑی ہو کر پکارتی ہیں۔کہ یہاں آؤ اور ہمیں پکڑ لو۔جب انسان وہاں پہنچتا ہے۔تو وہ ایک سال اور نیچے ہٹ کر جا کھڑی ہوتی ہیں۔کہ یہاں تک آؤ تو ہمیں حاصل کر لو۔اسی طرح ہوتے ہوتے منزل پر پہنچا دیتی ہیں۔اگر انسان ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کرتا رہے۔اور اگر کوشش نہ کرے تو ناکام و نامراد ہو جاتا ہے۔پس ہر سال نیا پروگرام اور نیا کام انسان کے سامنے لاتا ہے۔اور اس طرح تقسیم کر کے اس کے سامنے پیش کرتا ہے۔جس سے انسان خوش ہو کر آگے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ورنہ اگر ساری زندگی انسان کے سامنے ہوتی۔تو اس کے پروگرام میں نہ تو ایسی باقاعدگی رہتی اور نہ اس میں نیا جوش اور امنگ پیدا ہوتی۔بلکہ جو سال گذر جاتا اس کے متعلق سمجھتا میری زندگی سے کم ہو گیا ہے۔آگے میں کیا کروں گا۔اس طرح بے حوصلہ ہو کر ہمت ہار دیتا مگر جب اس کی زندگی سالوں میں تقسیم کر دی گئی ہے۔تو نئے سال کے آنے پر وہ کہتا ہے اتنا کام مجھے اس سال کرتا ہے۔اور اس طرح پہلے کی نسبت کچھ نہ کچھ آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ہمارے لئے بھی ایک نیا سال چڑھا ہے۔اس وقت دو باتیں دیکھنی چاہئیں۔اول تو یہ کہ پچھلا سال کیسا گزرا ہے۔اور دوسرے یہ کہ آئندہ ہمیں کیا کرتا ہے۔سورہ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سورۃ کا ایک حصہ گویا نئے سال کی ذمہ داریوں کا اظہار کرنے والا ہے۔اور دوسرا حصہ گزشتہ سال کی تمام کارروائیوں پو ریویو اور تنقید ہے۔وہ کس طرح؟ پہلا حصہ اس سورہ کا گذشتہ سال کی کارروائیوں پر نظر ڈالنے کے متعلق ہے۔اور پچھلا حصہ اگلے سال کے متعلق اور وہ اس طرح کہ انسان دیکھتا ہے کہ پچھلا سال جو گذرا اس میں بھی خدا تعالیٰ سے بندوں کا معاملہ رہا ہے۔اس سال میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی خد تعالی کی طرف سے اس پر فرض تھی۔اور خدا بھی وہ جس کی بڑی بڑی نعمتیں اور فضل اس پر ہیں۔آیا ان ذمہ داریوں کو اس نے صحیح اور پورے طور پر ادا کیا ہے۔یہ ایک سوال ہے۔جس کو انسان جب اپنے اندر اٹھائے گا تو اسے یقینا یہ جواب دینا پڑے گا۔کہ میں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بڑی بڑی کو تاہیاں کی ہیں۔پھر اس بات پر نظر ڈالنی پڑے گی کہ میں نے بڑی کو تاہیاں کی ہیں مگر خدا نے مجھ سے کیا معاملہ کیا۔کیا میں کو تاہیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اس بات کا مستحق نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے پکڑتا اور سخت سے سخت سزا دیتا؟