خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 163

۱۶۳ دیا۔اور خداتعالی پر بھی کرتے ہیں۔ممکن ہے کوئی کہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق یہ روایت ہے۔ممکن ہے یہ کچی ہو کہ نہ ہو۔گو اس کی سچائی کے ثبوت ہیں۔مگر ہم کہتے ہیں۔کہ یہ گذشتہ بات ہے اسے جانے دو۔مگر آج جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خادموں میں سے ایک آپ کا نمونہ اور بروز کھڑا ہوا دیکھ لو ایسا ہوا یا نہیں۔آپ پر اعتراض کرنے والے یہاں بھی تھے اور باہر بھی۔جو کہتے تھے کہ جس قدر مال آتا ہے۔اس کی حفاظت نہیں کی جاتی۔گھر کے آرام اور بیوی کو خوش کرنے کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔یہ کہنے والے اس وقت میں موجود تھے۔اور بیسیوں ایسے گواہ اس وقت بھی ہیں جو اس کی شہادت دے سکتے ہیں۔اور خود حضرت مسیح موعود کی گواہی موجود ہے۔الحکم میں آپ کی طرف سے شائع ہو چکا ہے کہ معلوم ہوا ہے ایک شخص مال کے متعلق اعتراض کرتا ہے۔میں اعلان کرتا ہوں وہ آئندہ مجھے چندہ نہ بھیجے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو مثال میں نے پیش کی ہے۔اسے پرانی روایت کہہ دو مگر اس کو نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ اس کے گواہ ہزاروں موجود ہیں۔پھر لوگوں کی ہی شہادت نہیں۔حضرت مسیح موعود کی اپنی شہادت ہے۔ان باتوں سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اعتراض نہ کیا گیا ہو۔اور کوئی شخص تو الگ رہا۔خدا کی ذات جو منبع ہے تمام خوبیوں کا اور جو پیدا کرنے والا ہے تمام صفات کا اس پر بھی انسان اعتراض کرنے سے باز نہیں رہتے۔اور کہہ دیتے ہیں۔اس کا معاملہ درست نہیں۔ایسے اعتراض خدا کے منکر ہی نہیں کرتے۔بلکہ ماننے والے بھی کر دیتے ہیں۔جیسے کہ میں نے وہ مثال سنائی ہے جو حضرت مسیح موعود نے بیان فرمائی۔اور نہ ماننے والے تو اندھیر ہی مچا دیتے ہیں۔پس تم جب بھی کسی انسان کے متعلق رائے قائم کرنے لگو تو سوچ لو کہ کس طرح انسان کے متعلق رائے قائم کرنی چاہئیے۔اور دیکھو کہ رائے قائم کرنے سے قبل کن باتوں کا دیکھنا ضروری ہے۔اور خاص کر یہ دیکھ لو کہ رائے قائم کرتے وقت تمہاری اپنی حالت کیسی ہے۔ایک ہی بات اگر ایک آدمی کے متعلق سنی جائے۔تو کہہ دیتے ہیں۔بہت بری ہے۔ایک بات جو اپنے مذہب میں پائی جائے۔اس سن کر سہلاتے اور جھوم جھوم کر کہتے ہیں۔کیا ہی خوب ہے۔لیکن وہی بات جب دوسرے مذہب میں دیکھیں۔تو کہہ دیتے ہیں۔کیسی بے ہودہ اور لغو ہے۔یہ مشاہدہ ہے اور غیروں کے متعلق ہی نہیں۔بلکہ اپنی جماعت کے بعض لوگوں کے متعلق بھی ہے۔جو سناتے ہیں کہ فلاں مذہب میں یہ بات جو پائی جاتی ہے۔غلط ہے۔حالانکہ وہی بات ان کے مذہب میں بھی پائی جاتی ہے۔اور اسے وہ درست اور صحیح سمجھتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے اس بات پر غورہی نہیں کیا ہوتا۔اپنی کتاب میں جب وہ بات آتی ہے تو اس کی خوبی کی وجہ سے اسے نہیں مانتے بلکہ