خطبات محمود (جلد 7) — Page 146
الم ضروری ہے کہ "سوال" کرنا مٹا دیا جائے۔کیونکہ یہی بے اطمینانی پیدا کرنے اور قناعت نہ رہنے دینے کا بہت بڑا موجب ہے۔یہی وجہ ہے۔کہ اسلام نے سوال کرنے سے منع کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برا منایا ہے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے ایک سوال کرنے والے کی تھیلی چھین لی۔اور اس لئے مارا کہ وہ سوال کرتا پھرتا ہے۔تو سوال کرنے کو اسلام نے بہت حقیر اور ذلیل فعل قرار دیا ہے۔۳۔در حقیقت سوال کرنے سے انسان میں ایسی دنائت آجاتی ہے کہ جس کی وجہ سے بہت کمینگی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ قناعت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سوال کی عادت کو مٹایا جائے۔کیونکہ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کام کچھ نہیں کیا ہوتا۔سوال کر کے کچھ حاصل کر لیتا یا حاصل کرنا چاہتا ہے۔تو وہ کہتے ہیں۔ہم جو کام کرتے ہیں ہم کیوں سوال نہ کریں۔اس وجہ سے وہ یہی کہہ دیتے ہیں کہ تنخواہ بڑھا دو۔اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ تو خدا کے لئے کام کر رہے ہیں۔اور انکو تنخواہ نہیں مل رہی۔بلکہ گزارہ مل رہا ہے۔تو ایک سوال کرنے والے کو دیکھ کر دوسرے کو بھی اس کی جرأت اور تحریک پیدا ہوتی ہے۔اس کی مثال دیکھئے۔ایک بچہ جب پیسہ مانگے۔تو دوسرا بھی مانگنے لگ جاتا ہے۔چاہے اسے ضرورت نہ ہی ہو۔اور یہاں تک ہوتا ہے کہ چھوٹا بچہ بھی جب بڑے بھائی کو مانگتے دیکھتا ہے۔تو وہ بھی ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ پیسہ کیا ہوتا ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔اسی طرح سوال کرنے والوں کو دیکھ کر دوسروں کو بھی سوال کرنے کی جرات ہوتی ہے۔اس لئے سوال کا مٹانا ضروری ہے۔مگر سوال کرنا کس طرح مٹ سکتا ہے؟ یہ بھی ایک سوال ہے۔جس پر غور کرنا ضروری ہے۔اس کے متعلق یا تو یہ کہدیا جائے کہ سوال کبھی نہیں کرنا۔مگر یہ وہی کہہ سکتے ہیں۔جو اس درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں۔کہ خدا ہی دے گا تو کھائیں گے۔ورنہ بھوکے مر جائیں گے۔لیکن نہ تو تمام لوگ اس درجہ کے ہو سکتے ہیں۔اور نہ لاکھوں کی جماعت سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایسا کرے گی۔اس لئے یہ کہنا کہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔کافی نہیں ہو سکتا۔اگر دنیا میں سارے کے سارے لوگ ولی اللہ ہوتے یا فرشتے بستے۔تو ہم انہیں اتنا ہی کہنا کافی سمجھتے کہ سوال نہ کرو۔اور کوئی نہ کرتا۔مگر دنیا میں تو غریب بھی ہیں۔اور امیر بھی۔طاقتور بھی ہیں اور کمزور بھی۔نیک بھی ہیں اور بد بھی۔پھر نیکوں میں اعلیٰ درجہ کے نیک بھی ہیں۔اور ادنی درجہ کے بھی۔اور نیک جماعتوں میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔کسی جماعت کے نیک ہونے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کا کثیر حصہ نیکی کی طرف مائل ہو۔یہ نہیں کہ اس میں شامل ہونے والا کوئی کمزور نہیں۔