خطبات محمود (جلد 7) — Page 133
ہوئے لوگوں کے لئے استعمال کی جائے گی۔پس ایک تجویز یہ ہے کہ ملازم" یا "نوکر" کا لفظ اڑا دیا جائے۔کیونکہ دین کی خدمت کرنے والے نوکر نہیں کہلا سکتے۔اور جو خدمت کرتے ہیں وہ بطور ملازم اور نوکر نہ رہیں بلکہ بطور کارکن رہیں۔ہاں یہ فرق ہونا چاہیے اور یہ ضروری ہے کہ اگر ہم اس اصطلاح کو صحیح طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اگر کوئی غیر احمدی یا ہندو یا سکھ یا عیسائی ملازم ہے تو اسے نوکر ہی کہا جائے۔وہ نوکر ہوگا۔لیکن اگر کوئی احمدی کام کرتا ہے خواہ اس کا کام کتنا ہی چھوٹا ہے تو بھی اس کا چونکہ یہ فرض ہے۔اس لئے وہ ملازم نہیں۔بلکہ کارکن ہو گا۔یہ تجویز میں نے اس لئے کی ہے۔کہ اسماء کے فرق کی وجہ سے حقیقت میں بھی بہت فرق پڑ جاتا ہے۔تم ایک لڑکے کو شریر شریر کہتے رہو۔اگر وہ شریر نہیں ہو گا تو شریر ہو جائے گا اسی طرح اگر کسی کو نیک نیک کہو۔تو وہ کئی شرارتیں چھوڑ دے گا اور نیک ہو جائے گا۔اسی لئے شریعت نے رکھا ہے۔کہ کسی کو گالی نہ دو۔کیونکہ جس قسم کی گالی دے جائے۔اس قسم کی اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ میں اور باتیں بھی سوچ رہا ہوں۔بعض دوستوں نے مشورہ دیا ہے۔کہ تنخواہ کو اڑا دیا جائے اور ضروریات کے لئے کچھ دیا جائے۔اس میں شک نہیں۔کہ یہ طریق مفید ہو سکتا ہے۔مگر تنخواہ اڑانے سے بعض ایسے فتنے پیدا ہونے کا احتمال ہے کہ جن کا ازالہ ہم فی الحال نہیں کر سکتے۔اور اس وقت اس تجویز کے خطرات فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔مگر میں اس پر بھی غور کر رہا ہوں۔اور اور تجویز میں بھی میرے زیر غور ہیں۔اور ایک بات بھی ہے۔جو دنیا میں فتنہ فساد کی بہت بڑی موجب ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم سے قناعت مٹتی ہے۔تو پھر اس کی حالت گرتی چلی جاتی ہے۔اور بہت سا دخل ان جھگڑوں میں جو تنخواہوں۔معاوضوں۔درجوں اور ترقیات کے متعلق ہوتے ہیں۔اسی عدم قناعت کا ہوتا ہے۔ایسا شخص جو عدم قناعت کی وجہ سے تنخواہ کے متعلق جھگڑا کرتا ہے۔اس کو اگر ایک لاکھ تنخواہ بھی دے دو تو پھر بھی اس کی حالت درست نہ ہوگی۔کیا ہم دنیا میں نہیں دیکھتے کہ جن کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے ہوتے ہیں وہ بھی اور جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔اور انہیں ہر وقت یہی خیال ہوتا ہے کہ اور کمائیں ان کے مقابلہ میں ہم دنیا میں ایسے لوگ بھی دیکھتے ہیں۔جو غریب اور کنگال ہوتے ہیں۔دس بیس روپے جو ان کی آمدنی ہوتی ہے اس کو استعمال کرتے۔اور جو کچھ ملتا ہے صبر شکر سے کھا کر آرام کی نیند سو رہتے ہیں۔پھر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ روپیہ کی زیادتی اور زیادہ جمع کرنے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔کیونکہ ہم کئی کروڑ پتی ایسے بھی دیکھتے ہیں جنہیں یہ خواہش نہیں ہوتی۔برخلاف اس کے کئی ایسے غریبوں کو دیکھتے ہیں۔جنہیں ہر وقت یہی دھن ہوتی ہے۔کہ روپیہ