خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 122

تھے ملازم نہ تھے۔وہ رسول کریم کے گرد کسی معاوضہ کے لئے جمع نہ تھے۔بلکہ آپ کی صحبت کے لئے تھے۔اس لئے وہ اس بات کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ ان کو کچھ ملتا ہے یا نہیں۔نہں جب تک یہ خصوصیت نہ پس ہو۔اور اس بنیاد پر کام نہ ہو۔کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں کھول کر بتاتا ہوں کہ میرا عقیدہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی چیز ہے جو دوبارہ واپس آئی ہے۔یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ایک طرح نئی بھی کہلا سکتی ہے۔اور وہ اس طرح کہ دوبارہ آسمان سے آئی ہے۔کیونکہ اس کے متعلق کہا گیا تھا لو کان الایمان معلقا بالشريا لناله رجل من ابناء الفارس ، اور نئی بھی نہیں اس لئے کہ اس کی شکل وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تھی۔پس جب یہ وہی چیز ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔اور صرف فرق یہ ہے کہ یہ آسمان پر چڑھ گئی تھی اور اس کی بازیابی کے لئے ایک مامور و مرسل مبعوث ہوا۔اور پھر وہ ٹریا سے واپس لائی گئی۔تو پھر میری سخت غلطی ہوگی کہ میں اس کی حفاظت نوکروں کے سپرد کروں۔جس طرح اس کی حفاظت پہلی آمد پر کی گئی اب بھی اس کی حفاظت اسی طرح پر ہو سکتی ہے۔یہ کام جب میرے سپرد کیا گیا تو میں نے ان نوکروں کے سپرد کیا جن کو میں "اصحاب" سمجھتا تھا۔میں نے یہ امانت یہ کام صحابہ کی جماعت کے سپرد کیا۔مگر بہتوں نے اپنے رتبہ کو نہ سمجھا۔انہوں نے اصحاب بنتا نہ چاہا بلکہ نوکر بنا چاہا۔حالانکہ وہ شخص جو صحابیت پر نوکری کو ترجیح دے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔کہ ہم اس کو آسمان پر بٹھائیں۔اور وہ گڑھے میں نیچے گرنا پسند کرے پس ابتدا سے دین کا کام صحابہ سے لیا جاتا رہا ہے۔اور اب بھی اس کو صحابہ ہی کریں گے۔جو و شخص صحابی بنکر رہنا چاہتا ہے۔وہ ہمارا بھائی ہے۔اور جو روپیہ کے لئے یہاں رہنا چاہتا ہے۔وہ سن لے کہ یہاں نوکروں کے لئے جگہ نہیں۔کیونکہ ہم نوکروں سے کام لینا نہیں چاہتے۔اس کو خواہ کوئی کسی نام سے یاد کرے اس کو ہماری غلطی کے یا خود پسندی یا خوشامد پسندی کا نام دے۔جیسا کہ ایک دشمن نے لکھا تھا کہ چونکہ مسیح موعود کے بیٹے ہیں۔اس لئے صاحبزادے بنتے ہیں اور خوشامد سے عادت خراب ہو گئی ہے۔غرض خواہ کوئی کچھ بھی کہے۔میں تو یہ کہتا ہوں۔اور صاف صاف کھلے لفظوں میں کہتا ہوں کہ ہم نوکر نہیں رکھ سکتے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خدا کے کام کے لئے نوکر رکھیں گے تو ہمیں خدا ہی کے حضور جواب دہی کرنی ہوگی۔پس اس بات کو سامنے رکھ کر ہر ایک شخص فیصلہ کرلے کہ اگر وہ یہاں رہنا چاہتا ہے تو کس طرح آیا صحابی بن کر یا نوکر بن کر اگر صحابی بنکر رہنا ہے تو سو۔پچاس کا سوال نہیں رہے گا۔نہ اس کی یہ غرض ہوگی۔ہم جو اس کو دیں گے وہ اس