خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 123

۱۲۳ کے اخراجات کے لئے ہوگا۔جس کی کمی بیشی سے اس کو کوئی تعلق نہ ہوگا اور چاہے ہم اس کو کچھ بھی نہ دیں۔اس کی مثال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی ہوگی جو ایک جنگ میں خالی ہاتھ رہے۔اور وہ دشمن جن کے خلاف وہ تلوار لیکر گھر سے نکلے تھے اونٹوں کی قطاریں لے گئے۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نوکر ہوتے تو مجھے اسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ایک بھی اونٹ مکہ میں نہ جاتا۔بلکہ سب ان کو ملتے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دیانت دار اور کوئی نہیں۔ایک منافق طبع نے اس وقت کہہ ہی دیا تھا کہ خون تو اب تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والے لے گئے ہے۔اور ایک دوسرے نے کہہ دیا کہ آپ کی تقسیم منصفانہ نہیں۔جس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے وہ لوگ ہونگے جن کے منہ پر ایمان ہو گا مگر دل ایمان سے خالی ہونگے۔ھ۔پس خوب کان کھول کر سنو۔کہ وہ جو دین کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے قادیان میں رہتے ہیں۔اور جو ہمارے لئے یہاں آئے ہیں۔اور انکی غرض خدا کے دین کی خدمت ہے۔اور انکو یہ باتیں میسر ہیں۔ان کے گزارہ کے لئے ہم جس قدر دے سکیں گے دیں گے۔جس کو وہ شکر گزاری سے قبول کریں گے۔اس روپیہ میں ان کی خواہش کو دخل نہ ہو گا۔لیکن جو نوکری کے لئے یہاں آیا ہو وہ یہاں سے چلا جائے۔کیونکہ ہم نوکر نہیں چاہتے۔ہم ان کو چاہتے ہیں جو ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ہم لازم چاہتے ہیں، ملازم نہیں چاہتے۔جن کی غرض ملازمت نہیں۔بلکہ جو دین کی خدمت کے لئے یہاں آئے ہیں اور صحابی بننا چاہتے ہیں وہ ہماری آنکھوں کا نور اور دل کی ٹھنڈک ہیں۔صحابی تنخواہ نہیں چاہا کرتا۔اور جو تنخواہ کے لئے آئے ہوں میں ان کو کہتا ہوں۔خواہ وہ موسیٰ ہی ہوں کہ تمہارا راہ وہ ہے اور ہمارا یہ۔اپنے دلوں کو مولو۔جس طرح میں نے صاف صاف کہہ دیا ہے۔اسی طرح صفائی دیانتداری کو مد نظر رکھ کر کہدو کہ دونوں میں سے کیا چاہتے ہو۔اگر تم روپیہ نہیں چاہتے۔عزت تمہیں مطلوب نہیں۔جاہ و حشم تمہاری غرض نہیں۔صرف خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی کے حصول کے لئے اس کے خلیفہ کی صحبت اور معیت چاہتے ہو تو تم ہمارے بھائی ہو۔اور دنیا وی بھائی سے بھی بڑھ کر پیارے ہو۔لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے۔تو تم صاف صاف کرده که اذهب انت وریک فقاتلا انا ههنا قاعدون (المائدۃ (۲۵) جس طرح یہ کہنے والے بیٹھے رہے۔اور خدا اور خدا کے رسول نے موعود ملک کو فتح کیا۔اسی طرح اگر تم میں ایسا کہنے والے پیدا ہو جائیں۔اور وہ صاف کہدیں۔تو میرا دل نہیں گھبرائے گا۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں۔اگر سارے بھی یہ کہدیں اور ایک