خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 106

1۔4 عبادت میں ملتی ہے وہ وہاں کے انگور یا انار یا کیلے یا کسی اور پھل میں ہوگی۔جب مومن کو وہ پھل میں گے تو وہ محسوس کرے گا کہ پھل مجھے فلاں عبادت یا خدمت کے بدلے میں ملا ہے۔یا فلاں کے۔بعینہ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ پل صراط بھی ہے۔حضرت صاحب کی تشریح و تاویل کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں میوے نہیں ہوں گے۔میوے تو ہوں گے۔مگر ایسے میوے نہیں ہوں گے۔جیسے کوئٹہ کے میوے ہوتے ہیں۔بلکہ ان میووں میں ذکر الہی کی ایک لذت ہوگی نماز کی ایک لذت ہوگی۔روزے کی ایک لذت ہوگی۔اور یہ لذتیں انگوریا انار یا کیلے کی شکل میں ہوں گی۔وہ مادی انگوروں۔اناروں یا کیلوں کی ایسی لذتیں نہیں ہونگی بلکہ وہ پھل چونکہ روحانی ہوں گے اس لئے ان کی لذت ان مادی میووں کی لذت سے مختلف ہوگی۔جو اس دنیا کے مادی پھل ہیں ان کی لذتیں اس جہان کے پھلوں کی لذتوں کے مقابلہ میں پیچ اور حقیر ہوں گی۔ورنہ اگر اسی دنیا کے میوے جنت میں بھی ملے تو کچھ نہ ملا۔کیونکہ مثلاً جب ایک بچہ ہوتا ہے تو اس کی خوشی صرف اس میں ہوتی ہے کہ اس کو کھیلنے کو وقت مل جائے یا معمولی سے معمولی چیز کھانے کو مل جائے مگر جب وہی بچہ بڑی عمر کا ہو جاتا ہے تو وہ چیزیں اس کو خوش نہیں کر سکتیں۔بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو کھیلنے میں خوش ہوتا ہے لیکن اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تم پڑھو تو تمہیں کھیلنے کو وقت ملے گا۔تو وہ پڑھنے کے لئے آمادہ نہیں ہو سکتا۔ایک پڑھے لکھے شخص کے آگے ایک جلیبی رکھ دی جائے۔اور اس کو کہہ دیا جائے کہ یہ تمہارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا نتیجہ ہے تو وہ سمجھے گا کہ یقیناً میرا وقت ضائع ہوا۔اب غور کرو کہ بچپن میں ایک شخص زیادہ کھیلنے یا مٹھائی کو اپنی امیدوں کا انتہا خیال کرتا ہے۔اور اس پر خوش ہو جاتا ہے۔مگر وہی بچہ جب پڑھ لکھ کر جوان ہو جاتا ہے اس وقت اگر اس کے سامنے اس کی تعلیم کے نتیجہ کے طور پر مٹھائی رکھی جائے یا کہا جائے کہ تم کھیلتے رہو تو وہ اس سے خوش نہیں ہو سکے گا، یہی سمجھے گا۔کہ تعلیم حاصل کرنے میں میں نے اپنا وقت ضائع کیا۔یہ کیوں ہے؟ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ چونکہ بچپن کی نسبت جوانی میں انسان کے عقلی اور دماغی اور ذہنی قومی بہت اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکے ہوتے ہیں اس لئے بچپن کی باعث مسرت اشیاء اس کو ادنی اور ذلیل نظر آنے لگتی ہیں۔اسی لئے ایک ایم۔اے پاس یا ایک سائنس کے عالم کے سامنے مٹھائی کی تھالی بطور اس کی تعلیم کے نتیجہ کے رکھنا اس کی ہتک کرنا ہے۔اسی طرح اس روحانی عالم میں ایک روحانی ترقی یافتہ شخص کے آگے اس دنیا کے مادی انگور یا انار یا کوئی میوے رکھنا اس کی ہتک ہے۔جس طرح یہاں ایک اعلیٰ امتحان میں کامیاب ہونے والے طالب علم کے لئے انعام کوئی نادر ادبی کتاب یا کوئی ڈاکٹر ہو تو طب کی نہایت بیش قیمت کتاب دینا جس کو خود طالب علم حاصل نہ کر سکتا ہو یا حاصل تو کر سکتا ہو مگر وہ کتاب تازہ شائع ہونے کے باعث مشہور نہ ہو مگر