خطبات محمود (جلد 6) — Page 63
جس کا دشمن بھی قوی اور مضبوط ہو بہادری اس کا نام نہیں کہ کوئی مقابلہ ہی نہ کرے اور اس کو مار لیا جائے۔کوئی کسی جرنیل کی یوں کبھی تعریف نہیں کریگا کہ وہ ایسا بہادر ہے کہ اس نے فلاں ایسا ملک فتح کیا جس میں کوئی فوج نہ تھی کیونکہ اس سے اس کی بہادری ظاہر نہیں ہوتی یا کوئی یہ کسے کہ میں نے فلاں قلعہ فتح کیا جو کہ بالکل خالی پڑا تھا۔تو یہ بھی اس کی فتح مندی نہیں کہلاتے گی پیس کسی فوج کی بہادری اس وقت ظاہر ہوتی ہے جس وقت اس کا مقابلہ بھی نہایت سختی سے کیا جائے۔ایسے ہی ترقی بھی نہیں ہوسکتی جب تک کہ مخالفت بڑے زور کے ساتھ نہ ہو۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مبعوث ہوتے تو عرب کے لوگ آپ کے مقابلہ میں آتے اور وہ یہودی و نصرانی جو اس علاقہ میں رہتے تھے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے۔آپ ایک آدمی تھے اور آپ کا مارنا کچھ مشکل نہ تھا لیکن وہ دشمن دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے جب وہ اکیلا شخص (صلی اللہ علیہ وسلم) ملک عرب کے بہادروں کو پچھاڑ کے سب کو اپنے ماتحت لے آیا۔پس آپ کی کامیابی اگر اس لحاظ سے دیکھی جائے کہ آپ اکیلے تھے۔تو واقعی بہت بڑی تھی۔مگر اس کامیابی کے مقابلہ میں جو حضور کی وفات کے بعد حضور کے اتباع کو ملی بہت کم تھی اور یہی قدیم سے سنت اللہ ہے۔اگر آپ نے اپنی زندگی میں ملک عرب کو زیر فرمایا تو آپ کی وفات کے بعد آپ کے اتباع نے ان ممالک پر قبضہ کیا جو کہ ساری معلومہ دنیا میں قابل ذکر تھے۔ایرانی سلطنت وہ سلطنت تھی جس کا اثر چین تک تھا اور ہندوستان پر بھی اس کا اثر تھا۔کابل و بلوچستان وغیرہ اس کے ماتحت تھے۔تو ایرانی سلطنت کو زیر کر کے گویا مسلمانوں نے سارے ایشیا پر قبضہ کر لیا تھا۔اور ادھر دوسری طرف رومی سلطنت وہ تھی جس کے ماتحت تمام ایشیائے کوچک بگیر یا مصر- آسٹریا کے علاقہ اٹلی طلائیس مراکش - الجزائر جرمن کے بعض علاقے۔پولینڈ وغیرہ تک قبضہ تھا تو گویا یورپ سارے پر صرف ایک رومی سلطنت کو فتح کر کے مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تھا۔پس اسی طرح تم یہ مت سمجھو کہ اگر تم نے محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ کو شکست دے لی تو اپنا کام ختم کر لیا۔حضرت مسیح موعود صرف پنجاب کے لیے نہیں تھے اور نہ وہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی تھے۔بلکہ آپ کی بعثت تمام دنیا اور تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے تھی۔اس لیے جبتک پادریوں کو ہندوؤں کو سکھوں کے عالموں کو دلائل کی رو سے شکست نہ ہو جائے۔اس وقت تک گویا ہم نے مذہب پنجاب کو بھی شکست نہیں دی اور پھر حضرت مسیح موعود صرف پنجاب کے لیے ہی نہ آئے تھے بلکہ ہندوستان کے لیے بھی آتے تھے۔اس لیے تمام ہندوستان میں جس قدر مذاہب ہیں جب تک ان کو شکست نہ ہوئے اس وقت تک ہم اپنے تئیں فتحیاب اور کامیاب نہیں کہ سکتے، لیکن ابھی تک