خطبات محمود (جلد 6) — Page 6
روپوں پر اپنے بیٹے کو بھی کرائیگا۔اس کا کیا نتیجہ ہوگا یہی کہ اگر مخاطب متحمل مزاج اور اپنے جوش کے دبانے پر قادر نہیں۔تو اس فقرہ کے پورا ہونے سے قبل ہی اس کا ہاتھ کہنے والے کی گردن میں ہو گا اور جس طرح پانی سے بھری ہوئی مشک کا بند کھل جاتا ہے اور زور سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔اس طرح اس منہ کا بند کھل جائیگا اور ہزاروں قسم کی گالیاں دینی شروع کر دے گا اور اگر کوئی سمجھدار اور دانا ہو گا تو اس فقرہ کو نہایت ناپسندیدگی اور ناراضنگی کی نظر سے دیکھے گا۔یا اگر ہے اختیار ہو کر کہنے والے پر حملہ آور نہیں ہو گا۔تو اسے یہ ضرور کہے گا کہ کیسی نادانی اور جہالت کی بات کرتے ہو یا اگر اتنابھی نہ کرے گا۔تودل میں ضرور غصہ سے بھر جائیگا۔یا کہنے والے کو پاگل اور مجنون سمجھے گا۔پس اس وقت جھگڑا اس بات پر نہیں ہو گا کہ اس کے بیٹے کی قیمت لاکھ روپے ہے یا کروڑ روپیہ بلکہ یہ بات سن کر اس کے ذہن میں ہی نہیں آسکے گا کہ میرے بیٹے کی کچھ قیمت ڈالی جاسکتی ہے۔اور وہ ناراضگی اور غصہ سے بھر جائیگا کہ کیوں ایسا کہا گیا ہے تو کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی قیمت ڈالنے میں اختلاف نہیں ہوتا۔بلکہ ان کی قیمت ڈالنا ہی ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پھر ایمان جو ہزاروں لاکھوں روپوں سے زیادہ قیمتی ہزاروں جانوں سارے عزیزوں اور رشتہ داروں سے زیادہ عزیز چیز ہے۔اس کی قیمت ڈالنے کا کس طرح خیال آسکتا ہے۔جب ایک بچہ کی قیمت نہیں پڑ سکتی تو ایمان کی کہاں پڑ سکتی ہے جو اس سے کروڑوں کروڑ نہیں اربوں ارب گنا زیادہ قیمتی اور عزیز شے ہے۔ایک ایماندار انسان تھے سامنے اگر ساری دنیا بھی ذبح کر دی جائے۔جو اسے اپنے ماں باپ بہنوں بھائیوں اور بیٹوں کی طرح پیاری اور عزیز ہو تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ اپنا ایمان دیگر اسے بچائے کیونکہ یہ ایک ایسی قیمتی چیز ہے کہ جس کی کوئی قیمت پڑی نہیں سکتی۔مگر باوجود اس کے ایسی قیمتی اور لاثانی چیز ہونے کے دُنیا میں ایسے لوگ پاتے ہی جاتے ہیں جو اس بے بہا گوہر کی قیمت مقرر کرتے اور اس لاثانی موتی کو بچنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی نسبت سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ ایمان کیا چیز ہے اور کتنی قیمتی شے ہے۔دیکھو اگر کسی کو کوئی کسے کہ میں تیرے بیٹے کو ذبح کرنا چاہتا ہوں۔بتا اس کی کیا قیمت لے گا اور وہ دس روپے مانگے۔تو سننے والے فوراً کہدیں گے کہ اگر یہ شخص پاگل نہیں تو یہ اس کا بیٹا ہی نہیں جس کی اس نے یہ قیمت مقرر کی ہے۔بلکہ کسی اور کا ہے۔اور یہ دھوکہ سے اپنا بیٹا کہہ رہا ہے۔اسی طرح جو شخص اپنے ایمان کی کوئی قیمت مقرر کرتا ہے۔اس کے متعلق یقیناً یہی