خطبات محمود (جلد 6) — Page 433
وسباق سے اس کے اور معنے نکلتے ہیں۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیئے لیکن قرآن یہ بھی تو کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے خوف سے کتنی ہی کو ٹریوں میں چھیے۔تو موت وہاں بھی نہیں چھوڑتی۔در اصل اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاں خطرے میں پڑنا مفید ہو۔وہاں خطروں میں پڑنے سے بچنا نہیں چاہیئے۔اس موقع پر میں قادیان والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تیمار داری اور سیاروں کی خدمت کرنا سیکھیں۔یہاں تو یہ باتیں معمولی سمجھی جاتی ہیں، لیکن یورپ میں اس کے سکھانے کے کالج ہوتے ہیں لیکن یہاں ایسی باتوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔مجھ سے ایک شخص نے مشورہ لیا۔کہ میں درزی کا کام سیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا۔بہت اچھا کام ہے۔وہ باہر کام سیکھنے گیا، لیکن چند ہی دن کے بعد آگیا۔اور جب میں نے پوچھا۔اتنی جلدی کیوں واپس آگئے ہو۔تو کہنے لگا کہ میں کام کرنے کے گر سیکھ آیا ہوں، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح ایسے پہلے کام کرنا نہیں آتا تھا۔اسی طرح پھر بھی نہ آیا۔اسی طرح میں نے کئی دفعہ بتایا ہے۔ایک شخص طب پڑھنے کے لیے ایک طبیب کے پاس گیا۔ایک دن طبیب ایک مریض کو دیکھنے گیا اور ساتھ اس کو بھی لے گیا میری کو سور معضمی کی شکایت تھی۔طبیب نے کہا۔آپ نے شاید چنے کھائے ہیں۔اس نے کہا ہاں۔شاگرد نے دیکھا۔تو وہاں اس کو چنے کے دانے نظر آئے۔اس نے خیال کیا۔طبیب نے یہ دانے دیکھ کر ہی بیمار کرنے کا باعث سمجھا ہے۔اور بیماری کا پتہ لگانے کا گر یہی ہے جو چیز آس پاس ہو رہی بیماری کا باعث سمجھ لی جایا کرے۔یہ خیال کرکے وہ واپس اپنے وطن پہنچا۔اور مشہور کر دیا کہ میں طب پڑھ آیا ہوں۔ایک دفعہ ایک امیر بیمار ہوا۔اس کے ہاں اس کو بلوایا گیا۔جب گیا۔نبض دیکھنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھنا شروع کیا۔اتفاقاً مریض کی چار پانی کے نیچے گھوڑے کی زین پڑی تھی۔کہنے لگا۔آپ نے بھی تو غضب کیا کہ زمین کھائی ہے۔بھلا کوئی ذہین بھی کھاتا ہے۔امیر نے کہا۔یہ تو کوئی پاگل ہے اور اس کو پٹوا کے باہر نکلوا دیا۔تو تیمار داری کا بھی ایک فن ہے جو محنت سے آتا ہے۔اور ہر ایک کام کا یہی حال ہے کہ جب اس کے کرنے کے طریق نہ آتے ہوں عمدگی سے نہیں ہوسکتا۔کل ہی کی بات ہے۔مغرب کے وقت مسجد کے اوپر دریاں بچھانے کے لیے کوئی تیس آدمی لگے۔اور اتنا شور ہوا کہ سے الامان، لیکن اگر فوجی یا فراش ہوتے۔تو چار ہی آدمی لگتے۔اور نہایت اطمینان اور خاموشی دریاں بچھ جاتیں۔تو ہر ایک کام سیکھنے سے آتا ہے۔اور اس پر محنت بھی ہوتی ہے۔اسی طرح تیار داری بھی سیکھنے سے آتی ہے پس اول تو اللہ تعالٰی اس آنے والے خطرے سے محفوظ رکھے، لیکن اگر آئے تو اس من