خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 424

۴۲۴۴ اختیاض کی بات نہیں ہے ہاں پیر دیکھو کہ انہوں نے کسی کو اچھا بھی کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے تو پھر یہی ان کا کام ہے دراصل نبی کا کام ڈاکٹر کے کام کی مانند ہوتا ہے اگر اس کے پاس زیادہ بیمار جمع ہوں تو میہ اس کی بڑائی کا ثبوت ہوتا ہے نہ کہ اس کے نقص کا۔پس اس کی قابلیت کو پرکھنے کے لیے یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ اس کے پاس بیمار زیادہ ہیں بلکہ یہ دکھنا چاہتے کہ اس کے علاج سے کوئی اچھا بھی ہوا ہے یا نہیں، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی وجہ سے ایک اپنی جماعت پیدا ہو گئی ہے، جو اچھی ہے تو اس کی قابلیت اور صداقت ثابت ہوگئی۔چونکہ اعلیٰ اخلاق دکھانا اور ان لوگوں کے مقابلہ میں کھانا وبداخلاقی میں حد سے بڑھے ہوتے ہیں۔نبی کا کام ہوتا ہے اس لیے اس کے نقش قدم پر چلنے والوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ اگر کسی میں غلطی دیکھیں۔تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں نہ کہ اس سے قطع تعلقی کرلیں۔اگر وہ لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح نہیں کرتے، تو پھر انھوں نے بیڑا کس کام کا اُٹھایا ہے۔کیا اسبات کا کہ لوگ خود بخود نیک ہو کر اور اعلیٰ اخلاق سیکھ کر ان کے پاس آجائیں۔اور انھیں اپنے ساتھ ملالیں۔یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کتے ہیں کوئی پور بیا تھا۔ان میں رسم ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو بین کرتے ہیں۔جب وہ مر گیا۔تو اس کی بیوی نے بین کرنے شروع کئے کہ ہائے فلاں سے اس نے اتنا روپیہ لینا تھا۔اب کون لے گا۔ایک پور بیا بولا" ہم ری ہم پھر اس نے کہا کہ فلاں جائیداد کا کون انتظام کرے گا۔اس نے کہا۔تہم ری ہم " لیکن جب اس نے یہ کہا کہ فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دیگا تو اس نے کہا میں ہی بولوں یا کوئی اور بھی بولے گا تو لینے کے وقت تو سب تیار ہو جاتے ہیں۔اگر مفت کے ہمدرد اور خیر خواہ مل جائیں تو ان سے کون انکار کر سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ انبیاء کے قائم مقام کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔انبیاء کی قائم مقامی کے ستحق وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصوں کا علاج کرتے۔ان کے اخلاق درست کرتے۔ان میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔پیں یہ خیال کرنا کہ اگر کسی سے کوئی ایسی بات سرزد ہو جائے جو اچھی نہ ہو۔تو اس سے تعلق قطع کر لینا تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔تمہارا یہ کام نہیں کہ جس میں کوئی نقص دیکھو۔اس کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤ۔بلکہ یہ ہے کہ اس کا علاج کرو اور اس کے نقائص کو دور کرو۔ایک دوسرے کی بیماریوں اور نقصوں کو دیکھنے کے لیے ہمارے مخالفین کی نظر کافی ہے وہ ایک دوسرے کے آئینہ میں اپنی شکل دیکھ کہ فتوی لگا رہے ہیں۔تم بھی اگر اسی طرح کرنے لگ جاؤ - توتم میں اور ان میں فرق ہی کیارہ جائیگا۔وہ بھی ایک دوسرے کے عیب نکالتے اور برائیاں بیان کرتے ہیں۔تم میں سے بھی اگر ایک بھائی دوسرے بھائی کا عیب نکالتا ہے۔تو وہ بھی دوسرں جیساہی