خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 4

میں ایسے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لیے اس دنیا میں آرام سے بیٹھنے کے دن گئے۔مومن کو یوں تو ہر وقت اور بہر حالت میں ہی آرام رہتا ہے۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو آرام حاصل نہ تھا یہ جو آرام ان کو تھا۔اس کا تو اندازہ ہی کرنا مشکل ہے لیکن کیا اُنھوں نے تلواروں کے نیچے اپنی گردنیں نہیں ڈال دی تھیں۔کیا وہ دین کے لیے گھر سے بے گھر۔وطن سے بے وطن رشتہ داروں سے جدا نہیں ہوتے تھے۔کیا ان کی جان اور مال خدا کی راہ میں صرف نہیں ہوا تھا۔یہ سب کچھ ہوا تھا، لیکن باوجود اس کے انھیں آرام اور اطمینان حاصل تھا، مگر آج کل آرام کے معنی نکھیا اور بیکار رہنے کے سمجھے جاتے ہیں۔جو آرام نہیں۔بلکہ سستی اور عیش پرستی کہلاتی ہے۔اور یہ مومن کے لیے حرام ہے۔اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ یہ نہ بجھیں کہ کام کے دن گزر گئے ہیں۔اور اب تکتا بیٹھنے کے دن آتے ہیں۔کیونکہ ان دنوں نے تو انھیں خوب اچھی طرح آگاہ کر دیا ہے کہ تمہارے لیے پہلے سے بھی زیادہ مصروفیت کے دن آگئے ہیں اور اس طرف تھی متوجہ کر دیا ہے کہ جب تمہیں کوئی کوشش نہ کرنے کی صورت میں استقدر انعام مل رہے ہیں۔تو جب ہم کوشش کریں گے اس وقت کسی قدر ملیں گے۔پس جہاں میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس سال ہمارا قدم پہلے سے بہت آگے ہے وہاں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جاکر سو نہ رہیں۔بلکہ جاگیں اور کام میں لگ جائیں۔اس کے بعد میں ان دوستوں کو جنہوں نے دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقت کی نہیں اس خطبہ میں آگاہ کرتا ہوں کہ وہ کل صبح کی نماز کے بعد مسجد میں جمع ہوں۔تاکہ ان کے جو فرائض میں نے سونچے ہیں۔ان سے آگاہ کیا جائے اور آئندہ کے لیے کام کرنے کا طریق تجویز کیا جائے۔بیرونی احباب کو بعد میں اطلاع دیدی جائیگی۔بعض بچوں نے بھی اس سلسلہ میں شامل ہونے کی درخواستیں دی ہیں، لیکن ان کے متعلق اسی وقت غور ہو سکتا ہے۔جبکہ وہ بڑے ہو جائیں اور اس وقت بھی ان میں یہی جوش پایا جائے اس لیے جن کی عمر 14 سال سے کم ہے وہ نہ آئیں اور جن کی اس سے زیادہ ہے اور اُنھوں نے درخواستیں دی ہیں۔وہ آجائیں۔تاکہ ان کے کام کے متعلق غور اور مشورہ کیا ) الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۱۸مه جاوے