خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 372

نے دیدیا ہے۔اور یہ خوشی کی بات ہے۔اور اس بات کا ثبوت ہے، کہ مرکز کی جماعت اخلاص میں پیچھے نہیں آگئے ہے۔اور یہ ایک اصول ہے کہ جو جماعتیں قائم رہنے والی ہوتی ہیں۔ان کے مرکزوں میں اخلاص ہوتا ہے۔اور اخلاص مرکز سے ہی نکلا کرتا ہے۔اور جب جماعتیں بگڑا کرتی ہیں۔تو مرکزوں میں ہی مرانی پیدا ہو جایا کرتی ہے پس مرکز ہی اخلاص اور برکات کا موجب ہوتے ہیں۔اور مرکزہ ہی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہو جایا کرتے ہیں۔یہ اللہ کا خاص فضل ہے، کہ اس نے ہمارے مرکز میں اخلاص کا زنگ پیدا کیا ہے۔توسی رو جو بیاں ہے۔اگر ساری جماعت میں پیدا ہو جائے تو میں ہار کیا میں لاکھ کا جمع ہو جانا کچھ بھی مشکل نہیں ، لیکن خدا جن کے لیے چاہتا ہے۔اپنی خاص تقدیر کو جاری کرتا ہے اس لیے میں نہیں جانتا۔کہ یہ خدا کی عام تقدیر ہے جو تمام جماعت کے لیے ہے یا خاص جو شخص قادیان کے لیے ہے۔اب دوبارہ اس امر کی طرف توجہ دلانے کی وجہ یہ ہے کہ جو اس تحریک کو نہیں سُن سکے ہی ہیں اور اپنے اپنے دیات میں اخلاص سے یہی تحریک کریں۔اور جہاں تک ہو سکے اس کو عملی جامہ پہنانے میں جلدی کریں۔در حقیقت جس انداز سے یہ کام شروع ہوا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہو گی ، لیکن میں ان تمام دوستوں کو جنھوں نے قادیان سے حصہ لیا، اور جو باہر سے اس میں حصہ لیں گے۔اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہر ایک کام اپنے ظاہری اسباب سے ہی کامیاب نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کے لیے کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں، جہاں قادیان والوں نے اخلاص سے چندہ جمع کیا ہے۔ان کو چاہیئے کہ صالح نیت بھی حاصل کریں یہ مت سمجھیں کہ انہوں نے روپیہ دیدیا اور نہیں کیونکہ محض روپیہ جمع کرنا کوئی بات نہیں۔دنیا دار بھی جمع کرلیا کرتے ہیں۔اور کثرت جمع کر لیتے ہیں۔لوگ شادیوں میں بے دریغ روپیہ خرچ کرتے حتی کہ مکان اور جائیدادیں تک بیچ ڈالتے ہیں۔اور روپیہ دینے اور جمع کرنے کی مثالیں بدترین لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔اور ایسے لوگوں میں بھی جو خدا سے بالکل دور ہوتے ہیں ایسی محض روپیہ جمع کر لینا اور جی کھول کر چندہ دنیا خوشی کی بات نہیں۔اصل قابل غور به سوال ہے کہ رو پیر دی کس نیت سے ہے بعض دفعہ کام نیک ہوتا ہے۔اور جوش و خروش سے کیا جاتا ہے۔مگر نیت نیک اس کے شامل نہیں ہوتی۔ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی حالت نازک ہو گئی اور کفار کا پہلوطاقتور تھا۔اس وقت مسلمانوں کی طرف سے ایک شخص میدان میں نکلا۔وہ ہر نازک موقع پر گیا۔اور اس کو ہر جگہ کامیابی حاصل ہوئی مسلمانوں کی نظریں اسی کی طرف لگ رہی تھیں وہ جدھر جاتا کنار پسپا ہو جاتے مسلمانوں کی طرف سے تحسین و آفرین