خطبات محمود (جلد 6) — Page 373
کے کلمے اسکے حق میں نکل رہے تھے۔ادھر تو اس کی یہ حالت تھی کہ اس طرح کفار سے جان لڑا رہا تھا اور کام وہ کر رھا تھا جو جہاد ہے جسکی فضیلت میں قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں۔مگر ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ اکہ ہم نے اس کے متعلق فرمایا کہ اگر کسی نے جہنمی کو دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو۔اس کی اس خدمت کو دیکھ کر اور ان واقعات کو سامنے رکھ کر جو اس سے ظہور میں آرہے تھے بعض لوگوں کو تردد ہوا۔که دو شخص جو اس خدمت کی وجہ سے انعامات کا مستحتی ہے۔اس کو دوزخی قرار دیا جا رہا ہے۔ایک صحابی نے جو بعض کمزور لوگوں کی حالت کو دیکھا کہ وہ کہیں مرتد نہ ہو جائیں۔توانہوں نے عہد کیا کہ خدا کی قسم میں ابی شخص کے ساتھ یہ ہوں گا جب تک یہ مر نہ جائے۔وہ اس کے پیچھے لگ گئے۔ایک موقع پر اس شخص کو ایک زخم لگ گیا۔جب درد بڑھی۔تو اس نے نیزہ اپنے سامنے رکھا اور اس پر سینہ رکھ کر زور کیا تو نیزہ اس کے سینہ کو چھید کر باہر نکل گیا۔اور اس طرح وہ خود کشی کر کے مر گیا۔وہ صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دوڑتے ہوتے آئے۔اور کہا کہ یا رسول اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خُدا ایک ہے۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس کے رسول ہیں۔آپ نے پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے عرض کیا وہ شخص جو اس طرح اسلام کی خدمت کر رہا تھا۔حضور نے جب اس کے متعلق فرمایا تھا، کہ یہ دوزخی ہے تو بعض طبعیتوں میں اس سے خلجان پیدا ہوا۔میں اس کا انجام دیکھنے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے ہو گیا۔اس کو ایک زخم لگا ہمیں اس کے پاس پہنچا اور اس کو کہا کہ تم نے آج بڑی اسلام کی خدمت کی۔تو اس نے کہا کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نے اسلام کے لیے اتنا خوش دکھایا ہے۔نہیں بلکہ میری ان لوگوں سے خاندانی عداوت تھی۔اس لیے میں ان لوگوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔جب درد کی شدت ہوئی۔تو اس نے خود کشی کر لی جب حضور نے اس صحابی سے یہ سنا، تو آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کا رسول ہوں لیے دیکھو وہ اسلام کی ایک خدمت بجالا رہا تھا اور خدمت بھی کیسی کہ جو بہت ہی بڑی خدمت ہے۔مگر دل میں یہ نیت نہ تھی۔کہ میں اسلام کے لیے یہ خدمت کرتا ہوں۔اور اس لیے کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو۔تو چونکہ اس کی نیت یہ تھی۔اس کو جنم میں ڈالا گیا۔اور اس کا تمام وہ کام ضائع ہوگیا جو نبی کی معیت میں اسلام کی خدمت کر رہا تھا۔وہ معیت ضائع ہوئی۔صحابہ کا ساتھی ہونا ضائع ہوا۔اور وہ خدمت جو ایسی عمدہ تھی۔ضائع ہوگئی اور ایک نیت ہی غالب آئی۔بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتم