خطبات محمود (جلد 6) — Page 323
مسیح موعود نے جو کچھ لکھا۔وہ درست نہیں۔وہ خود جو کچھ کھتے ہیں۔درست ہے۔پھر ان کے نزدیک یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔اگر ہم کہتے ہیں کہ حضرت اقدس نے فلاں بات کو منسوخ کر دیا۔تو اس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔اور خود ایک بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ سیح موعود کا آخری وقت تک ہی عقیدہ رہا لیکن چونکہ فہیم قرآن مسیح موعود پر ختم نہیں ہو گیا۔اس لیے ہم جوکہتے ہیں۔وہ صحیح ہے، اور مسیح موعود کا بیان غلط یہ ایک ایسی ہے ہے جس کو کوئی عقل مند انسان جو حد بلوغت کو پہنچ چکا ہو، اس کو نہیں سمجھ سکتا۔اور نہ اس کو ایک قرار دے سکتا ہے، سوائے اس کے جواز لی طور پر خدا کے عذاب کے نیچے ہو کہ وہی اس کو ایک قرار دیا۔مجھ پر اعتراض کیا گیا کہ میں نے جو یہ لکھ دیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی کی فلاں عبارت سے اپنی فلاں فلاں عبارتوں کو منسوخ کر دیا۔تواس پر شور مچ گیا کہ یہ ایک خطرناک راہ ہے جو اختیار کی گئی ہے، لیکن وہ عقیدہ جس پر آپ وفات تک قائم رہے یعنی مسیح کی ولادت ہے پدر۔اس کی تکذیب کے لیے کہدیا گیا کہ کیا فهم قرآن مسیح موعود پرختم ہوگیا ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ مقابلہ جو کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان مٹ چکا ہے وہ۔وہ اتحاد کی دستی جو ایک ہی ایمان و اسلام کا ذریعہ تھی۔اس کو انہوں نے کاٹ دیا۔ان کی یہ حالت بغض اور کینہ سے پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح ہم دوسرے مسائل میں بھی دیکھتے ہیں۔مثلاً کہتے تھے کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود چونکہ خلیفہ ہیں۔اس لیے ان کا خلیفہ نہیں ہو سکتا ہم اس سوال کو علیحدہ کر کے کہ جب حضرت خلیفہ ایج اول من نے مولوی محمد علی صاحب سے تین دفعہ اپنی وصیت پڑھوائی اور اس وقت انہوں نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ کہا۔اور یہ منافقت کا فعل تھا۔اور پھر اس وصیت کے پہلے یا بعد میں نہایت ضروری اعلان کا مضمون لکھا۔ہم اس تمام قصہ کو چھوڑ کر کہتے ہیں کہ مولوی صاحب کی وفات اور اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جس میں خلیفہ کے خلیفہ سے انکار تھا۔ایک جلسہ کیا جس میں چار خلیفہ بنائے۔اور اس وقت ان کو یہ بات یاد نہ رہی کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔یا تو ایک خلیفہ کے تسلیم کرنے میں بھی ایمان جاتا تھا یا اب یہ ایمانداری دکھائی کہ ایک چھوڑ چار خلیفے بنا لیے۔ہیں رکھتے تھے کہ ہم مسلمانو کو کا فرکھتے ہیں، لیکن مولوی حمد علی صاحب نے امیرالمومنین کا لقب امتیا کیا جس کے معنے یہ ہیں کہ غیر مبایعین کے چند صدا فراد کے سوا سب کے سب مسلمان کا فر ہیں کیونکہ جن کے وہ امیر ہیں۔وہ تو چند سینکڑے ہیں اور باقی تمام مسلمان خواہ وہ کوئی ہوں۔ان کو واجب الاطاعت امیر تسلیم نہیں کرتے جس کا صاف نتیجہ یہ ہے کہ وہ ان چند سو کے سوا باقی سب کو مسلمان نہیں سمجھتے۔اصل میں بات