خطبات محمود (جلد 6) — Page 273
کچھ مدت کے بعد معاف ہو سکتے ہیں۔اگر زکواۃ کچھ عرصہ کے بعد معاف ہوسکتی ہے۔اگر حج معاف ہو سکتا ہے تو دین کے دوسرے احکام بھی معاف ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ احکام جو انسان ہی کے فائدہ کے لیے ہیں۔موت تک ساتھ چلتے ہیں تو پھر کوئی بھی دینی حکم ایسا نہیں۔جو جُدا ہوتا ہو۔بے شک بعض احکام ایسے ہیں جن کی حد بندی کر دی گئی ہے۔مثلاً حج ہے جس پر فرض ہو۔اگر ایک دفعہ کرے تو پھر اس پر فرض نہیں رہتا۔مگر یہ معین کر دیا گیا ہے کہ حج ایک ہی دفعہ کرنا فرض ہے اور جو معین نہیں یعنی نفل کے طور پر جج ہوتا ہے۔وہ ساری عمر کیا جاتا ہے تو وہ احکام جن کی کوئی حد بندی نہیں کی گئی۔بلکہ غیر معین ہیں وہ کسی طرح بھی جیتے جی ہٹ نہیں سکتے۔اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو ایک خاص نصیحت کرتا ہوں کہ جب وہ دین کی خدمت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو یا درکھیں کہ ایک دن کے لیے نہیں۔دو دن کے لیے نہیں بلکہ ساری عمر کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ، مگر افسوس بہت لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چند دن کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔اس کے لیے اپنی تاریخ کو دیکھو۔مثلاً اخباروں کے فائل ہیں۔ان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ شاہ اور شاہ میں دو تین آدمی بڑے زور کے ساتھ لکھنے والے ہوں گے ، لیکن اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلے گا۔اور پھر اور نکل آئیں گئے۔مگر وہ بھی ایک آدھ سال کے بعد غائب ہو جائینگے۔غائب ہونے والے مر نہیں جانتے۔زندہ ہوتے ہیں۔مگر عملی زندگی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ان کے جوش جاتے ہیں۔اسی طرح اور کاموں میں نظر آتا ہے۔چندوں میں بھی یہی حال ہے۔آج سے جوشخص زیادہ چندہ دیتے تھے۔ان میں کمی آگئی۔مگر اور پیدا ہو گئے۔جو زور سے دینے لگ گئے یہ علامت ہے اس بات کی کہ انہوں نے سمجھا نہیں کہ دین کی خدمت تمام زندگی میں کرنا ہوتی ہے۔بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ مدت جو ہم نے کام کیا ہے۔تو اب ہمارے آرام کا وقت آگیا ہے۔در اصل نوں نے اپنے کام کرنے کے وقت کا اندازہ غلط لگایا ہے۔اور اس غلطی کی وجہ سے انہیں ٹھوکر لگتی ہے دیکھو جس طرح ایک طالب علم جس کے لیے چھ گھنٹہ روزانہ سکول میں پڑھنا ضروری ہے وہ اگر دو گھنٹہ کے بعد سکول سے چلا آئے۔تو مرا پائے گا۔اسی طرح دین کی خدمت کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے۔جو شخص اس سے پہلے ہاتھ پر ہاتھ رکھکر بیٹھ جاتا ہے وہ غلطی کرتا اور سخت نقصان اُٹھاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے۔جیسے ایک شخص دریا میں کود کر پار جانے کے لیے تیرتا جاتا ہے، مگر جب کنارے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔تو بجائے اس کے کہ آگے بڑھے وہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔بہت ممکن ہے کہ وہیں مگر مجھ ہو اور اسے کھا لے یا پانی بہا