خطبات محمود (جلد 6) — Page 274
۲۷۴ کرلے جاتے۔اس کے لیے یہی ضروری ہے کہ کنارے پر جا کر آرام کرے۔اسی طرح وہ شخص جو دین کی خدمت کرتا ہے وہ اگر وقت سے پہلے بیٹھ جاتا ہے۔تو یقینا اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے ہیں جو لوگ دینی کام کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اس کام کے لیے دیا میں کوئی عرصہ مقرر نہیں کہ کچھ مدت خدمت کرنے پر وہ چھوڑ سکیں۔دنیا میں کسی وقت بھی دینی کام کو چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آدھا کام کر کے چھوڑ دے۔اور بعینہ اس عورت کی مثال ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے کہ خود سوت کا تئی اور پھر خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی۔خُدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ خدا کے لیے جو خدمت کریں وہ اس کے کرنے میں دوام اور قیام کی طاقت دے اور اس سے ہٹ جانے اور اس کو چھوڑ دینے سے بچائے۔آمین : الفضل ۲ اگست شاه