خطبات محمود (جلد 6) — Page 155
۱۵۵ بلکہ وہ اور زیادہ اطاعت اور فرمانبرداری میں بڑھتا جاتا ہے، لیکن جہاں عرفان کی کمی ہوتی ہے۔تو بیکی و اکثر رستہ سے جدا کر دیتی اور ٹھو کر کھلاتی ہے۔تو لا اله الا اللہ اسلام کا مغز ہے۔اور یہ وہ چیز ہے کہ اس سے ہر قسم کے شکوک شبهات دُور ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے۔جب حضور علیہ الصلوة والسلام فوت ہوئے تو حضرت عثمان نے فرمایا تمنيت ان سئلت رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم - میرے دل میں تھا کہ میں رسول کریم سے پوچھوں ماذا ينجينا مما يلقى الشيطان فی انفسنا کہ ہم شیطانی وساوس سے کیسے نجات پا سکتے ہیں۔فقال ابوبکر رضی الله عنه سئلت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك۔حضرت ابوبكر صديق رض نے کہا کہ میں نے آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا قال فقال ان تقولوا ما امرت به عمى ان يقول له فلم يقلہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم وہ کہو جس کے کہنے کے لیے میں نے اپنے چچا کو کہا تھا، لیکن اس نے نہ کہا۔وہ کیا بات تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چا کوئی دو ہی کلمہ توحید تھا۔آنحضرت نے اپنے چا ابوطالب کو انکی وفات کے وقت کہا تھا کہ چھا اگر آپ ایک دفعہ اللہ الا اللہ کہدیں تو میں آپکی قیامت کے دن شفاعت کر سکوں گا۔مگر انھوں نے جواب دیا کہ میں اپنی قوم سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے یہ کلمہ پڑھ دیا تو وہ کہے گی کہ ابو طالب مرتے وقت اپنے بھتیجے سے ڈر گیا۔اس لیے میں اسی مذہب پر جان دیتا ہوں جس پر میں نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔تو رسول کریم نے حضرت الی کرین کو بتایا کہ جو انسان شیطانی وساوس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے وہ وہی کئے جس کے کتنے کے لیے میں نے اپنے چھا کو کہا تھا۔یہ کلمہ انسان کو وساوس سے بچاتا ہے۔انسان کے دل میں جو وساوس پیدا ہوتے ہیں وہ باتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔اول تو یہ کہ وہ چند باتیں حاصل کرنا چاہتا تھا ، لیکن وہ حاصل نہیں ہوتیں۔یا وہ بعض باتیں چاہتا ہے کہ نہ ہوں مگر ان سے ان کو واسطہ پڑتا ہے۔مثلاً وہ چاہتا ہے کہ اس کی جو جو خواہشیں ہیں۔وہ تمام کی تمام پوری ہوں۔ان میں سے کسی میں بھی کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو اور بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان سے وہ بچنا چاہتا ہے۔مثلاً وہ چاہتا ہے کہ دُکھوں مصیبتوں آفتوں سے مامون رہے، لیکن دکھوں۔آفتوں مصیبتوں سے اس کو پالا پڑتا ہے۔یہی دو باتیں ہیں لے مسند احمد بروایت مشکوة كتاب الايمان في بيان التوحيد