خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 156

104 جن سے انسان ابتلاؤں اور وسوسوں میں پڑتے ہیں۔لیکن انسان کو سوچنا چاہیئے کہ ہو نہیں سکتا کہ اس کی تمام کی تمام خواہشیں پوری ہوں۔اور وہ کسی تکلیف میں نہ پڑے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے ایک اُستاد سے رخصت ہونے لگے تو آپ نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔آپ کے اُستاد نے فرمایا کہ آپ خدانہ نہیں۔حضرت مولوی صاحب نے سوال کیا کہ انسان کیسے خدا بنتا ہے۔انھوں نے فرمایا کہ جب انسان یہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس کی خواہش ہے۔اسی طرح ہو۔اور اس کے خلاف کبھی نہ ہو۔تو اس وقت وہ انسانیت سے باہر قدم رکھتا اور خدا بننا چاہتا ہے۔کیونکہ انسان کی یہ شان نہیں ہے۔کہ وہ جو خواہش کرے پوری ہو جاتے۔یہ تو خاصہ خداوندی ہے۔کہ وہ جس طرح چاہتا ہے۔اسی طرح اس کے ارادہ کے ماتحت سب کچھ انجام پاتا ہے۔اور کوئی نہیں جو اس کے ارادہ میں مزاحم ہو سکے لیے تو در حقیقت بہت سے وسوسے اسی لیے ہوتے ہیں۔کہ انسان خدا بننا چاہتا ہے۔اگر انسان غور کرے تو اس کو معلوم ہو جائے کہ ایسے وساوس جو پاک ہوں اور محض صحیح علم کے ماتحت ہوں شاذ و نادر ہوتے ہیں۔بلکہ شاید سو میں سے ایک ہو ورنہ بہت سے اعتراض جن کی بظا ہر کوئی وجہ نہیں ہوتی وہ اغراض مخفیہ سے وابستہ ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ان پر شیطان کا کا قبضہ ہوتا ہے۔میں نے کہا ہے کہ سو میں سے ایک کا شک اصلی ہوتا ہے اور اگر اور وقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ لاکھ میں سے ایک تک اصلی ہو گا۔ورنہ جس کے دل میں شک پیدا ہوتا ہے اس شک وشنبہ کی وجہ ذاتی ہوتی ہے۔کیونکہ انسان اپنے تئیں خدا قرار دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ جس طرح میں نے چاہا اسی طرح کیوں نہ ہوا۔لاکھ میں سے ایک شبہ نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔جن لوگوں کے دلوں میں شکوک شبہات پڑتے ہیں اور ان کے دل میں وساوس پیدا ہوتے ہیں۔وہ عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں برداشت کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ یہی چاہتے ہیں کہ میں طرح وہ چاہتے ہیں۔اسی طرح ہو۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ والدین ہمیشہ جن بچوں کی خواہش کو پورا کرتے ہیں۔اور کبھی ان کی خواہش کے خلاف نہیں ہونے دیتے۔ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر ہمیشہ مصائب اور دکھوں کے وقت گھبرا جاتے ہیں کیونکہ ان میں برداشت کی قوت نہیں پیدا کی جاتی لے حیات نور مصنفہ شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگریل) صداه