خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 111

سے چاہتے ہیں کہ ان کی طرح عزت حاصل ہو جاتے مگر اس سے یہ مکن نہیں۔عزت ان کی عمدہ صفات حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔بنگال اور مدراس کے لوگ تعلیم میں بہت ترقی کر گئے ہیں مگر اپنا لباس وہی رکھتے ہیں۔بنگالی سرنگے اور دھوتی باندھے ہوئے ہوتے ہیں مفتی صاحب جب مدراس گئے تو انھوں نے بتایا کہ چیف کورٹ کے حج بھی دنگے پیر بازاروں میں پھرتے تھے ، اور اس سے ان کی عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔کیونکہ انھوں نے اہل یورپ کی سیکھنے کی باتیں سیکھی ہیں حضرت مسیح موعود کوئی کوٹ پتلون نہیں پہنتے تھے مگر خدا نے آپ کو کتنی عزت دی۔تو معلوم ہوا کہ لباس میں تقلید کرنے سے عزت حاصل نہیں ہوتی۔پھر بعض لوگ بھیڑ کی طرح تقلید کرتے ہیں۔اگر پوچھا جاتے کہ یہ کام کیوں کرتے ہو تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا۔اگر کوئی عقل کی بات بتاؤ اور کہو کہ ایسا کرو تو کہیں گے ہم نہیں مان سکتے۔کیونکہ یہ ہمارے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے۔یہ نہیں دیکھیں گے کہ کونسی بات مفید اور عقل کے مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الناس میں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ کیونکر انسان انسانیت سے گرتا ہے اور ساتھ ہی گرنے سے محفوظ رہنے کا طریق بتایا ہے۔فرمایا : - قل اعوذ برب الناس الف یعنی تین ذریعے ہیں جن کے ذریعہ انسان او پر چڑھنا ہے اور تین ہی وہ ذریعے ہیں جن سے نیچے گرتا ہے۔ان تین ذرائع میں سے ایک ربوبیت ہے۔دوسرا ملکیت ہے اور میرا الوہیت بہت دفعہ ربوبیت کے ذریعہ ابتلا۔آتا ہے اور بہت دفعہ ملکیت کے ذریعہ اور بہت دفعہ الوہیت کے ذریعہ اور پھر ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔ایک نسبت فاعلی کے لحاظ سے اور دوسری نسبت مفعول کے لحاظ سے یعنی کبھی انسان دوسروں کا رب بنتا ہے اور بھی دوسروں کو اپنا رب بنا ت ہے پھر بھی خود ملک بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا ملک بناتا ہے۔اسی طرح کبھی خود اللہ بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا اللہ بنالیتا ہے گویا تین سے چھ ذریعے بن جاتے ہیں۔کبھی یہ رب ہوتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ لفظ رب عام ہے۔خدا کے لیے مثلاً رب الناس آیا ہے۔اس کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔اور پھر دتی حالت سے اعلیٰ کی طرف لیجانے والا۔اور بعض دفعہ دیکھ کہیں گے۔اور اس کے معنی ہونگے تمہارا سردار تو لغت والوں نے دونوں طرح لکھا ہے کہ لفظ رب بغیر اضافت یا باضافت خدا کے لیے آتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اوروں کے لیے بھی بول لیتے ہیں۔ہر حال ایک ربوبیت انسان کی ہوتی ہے۔مثلاً انس کے غریب رشتہ دار ہیں اور وہ ان کی پرورش کرتا ہے۔اس پر اتیلا۔اس طرح آتا ہے کہ اس کے پاس