خطبات محمود (جلد 6) — Page 110
11۔اگر کسی جانور میں ایک ایک نقص ہے تو انسان میں تمام کے تمام نقائص جمع ہو جاتے ہیں بے حیا یہ ہوتا ہے۔بے وفا یہ ہوتا ہے۔اندھا تقلید کرنے والا یہ ہوتا ہے احمق یہ ہوتا ہے۔کبھی بھیٹر کی طرح متقلد ہو جاتا ہے۔لوگوں کو نمازیں پڑھتا دیکھتا ہے تو خود بھی نماز پڑھنے لگتا ہے لیکن کچھ نہیں سمجھتا کہ نماز کیوں پڑھتا ہوں اور پھر بھی نماز پڑھتا ہے کہ لوگ تعریف تحریں۔رسول کریم ملی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہونگے جو نمازیں تو بی بی پڑھیں گے مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔یہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق آپ نے فرمایا۔پھر انسان نقلیں اتارتا ہے تو ایسی بھونڈی کہ دیکھ کر ہنسی آجاتی ہے۔مثلا" یورپ کے لوگوں کی نقل میں ٹوپی۔کوٹ پتلون پہنتا ہے۔چونکہ ان لوگوں کو یہ لباس پہنتے صدیاں گزرگئیں اس لیے ان کو بُرا نہیں معلوم ہوتا۔مگر یہ لوگ جو ان کے نقال ہوتے ہیں اور ویسا ہی بننا چاہتے ہیں۔یہ گو ویسا ہی لباس پین بھی لیں۔یورپین وضع کی ٹوپی سر پر رکھیں۔مگر گوری رنگت کہاں سے لائیں گے۔پھر اور چین جس طرح چلتے پھرتے ہیں۔اس کے لیے ان کی تو چال ہی اس قسم کی ہوتی ہے۔نہ توانھیں تکلف کرنا پڑتا ہے۔اور نہ وہ بڑے معلوم ہوتے ہیں دیگر ان لوگوں کو ایسی چال چلنے کے لیے تصنع کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ پچھلے سال شملہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا بعض لوگ جسم کو اکڑاتے اور سر کو اُٹھائے چلتے ہوئے نہایت بھونڈے معلوم ہوتے تھے۔ان لوگوں نے نقل کی نقل تو کی مگر بھونڈی اور فضول نقل کی جو ان کے لیے بجائے فائدہ مند ہونے کے اور ذلیل گن ہے۔کیونکہ انسان معزز کوٹ پیتکون وہیٹ سے نہیں بن جاتا۔اور نہ ہی یورپ کے لوگ اپنے لباس کی وجہ سے معزز ہیں۔بلکہ کسی اور وجہ سے ہیں۔ان لوگوں کو اگر ان کی نقل کرتی تھی تو ان صفات کی کرتے جن سے وہ دنیا میں معترہ ہیں۔مثلاً دنیا ہی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کوئی بڑی سے بڑی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے، لیکن اگر ان لوگوں کو کسی دور سفر پر جانے کے لیے کہا جائے۔تو اول تو موجودہ زمانہ میں جہاز کے سفر کے خطرے کو رستے ہیں روک بنائیں گے اور اگر جہاز کا سفرنہ ہو کسی ایسی جگہ کا سفر ہو جہاں ریل نہ جاتی ہو تو ریل کے نہ ہونے کا عذر کیا جائیگا۔پھر اگر یورپ کے لوگوں کو مذہبی طور پر بھی دیکھا جائے۔تو ان کی قربانیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔افریقہ کے وحشیوں نے سینکڑوں مشنری عورتوں کو بھون کر کھا لیا۔مگر ایک کے بعد دوسری فوراً چلی جاتی۔اور عیسائیت کی اشاعت میں لگ جاتی اور اگر ایک کی ہلاکت کی خبر پہنچتی ہے۔تو کئی درخواستیں آتی ہیں کہ ہم کو وہاں بھیجا جائے۔چین میں اس وقت تک سات ہزار عیسائی مشنری قتل کیا گیا ہے، لیکن ایک مارا جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا چلا جاتا ہے۔نکی نقل کرنے والے محض لباس اور چال میں نقل اُتار نے