خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 103

19 حقیقی تعریف و ھے جوخدا کی طرف سے ہو (فرموده ۲۷ ستمبر ۱۹۱۷مه) حضور نے ہشتد و تعود اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : عزت اور تعریف ان چیزوں میں سے ہیں جن کے لیے انسان باقی چیزوں کے قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔لوگ ہزاروں روپیہ صدقہ و خیرات میں خرچ کرتے ہیں جس سے ان کی نیت بنی نوع کی حاجت روائی اور مذہبی احکام کی بجا آوری نہیں ہوتی۔اور نہ رضاء الہی کے حصول کے لیے ایسا کرتے ہیں۔بلکہ ان کی غرض تمام صدقہ و خیرات سے صرف ایک ہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ لوگ ان کی تعریف کریں کہ فلاں بڑا مخیر ہے جو غریبوں میں ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے۔پھر لوگ عزت و تعریف حامل کرنے کے لیے اپنی عمر خرچ کر دیتے ہیں۔زندگی قربان کر دیتے ہیں۔لڑائیوں میں جان لڑا دیتے ہیں۔علمی مسائل کی تحقیق میں زندگیاں ختم کر دیتے ہیں۔اولادوں کو قربان کر دیتے ہیں۔وطنوں اور عزیزوں کو قربان کر دیتے ہیں۔اس لیے کہ دنیا میں نام حاصل کریں۔یہاں پر عزت و تعریف مترادف الفاظ میں کیونکہ جو بخیل ہو اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا اور وہ معزز بھی نہیں ہوتا۔پس تعریف کے لیے لوگوں کی نظروں میں حسین و خوبصورت دکھائی دینے کے لیے انسان جان بھی قربان کر دیتا ہے۔گو وہ جانتا ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کی تعریف میرے کسی کام نہیں آئیں گی۔تاہم وہ چاہتا ہے کہ مرکے ہی اسے حاصل کرلوں اور جب لوگ مجھکو یاد کریں تعریف اور عزت کے ساتھ ہی یاد کریں۔پھر اموال کو قربان کر دیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ مال خرچ ہو جاتے کے بعد میں ایک مفلس اور غریب شخص ہو جاؤنگا۔مگر اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ یہ تو کہیں گے کہ اس نے اپنا مال غرباء کی مدد کے لیے خرچ کر ڈالا۔پھر یہ خواہش ادنی اور متوسط درجہ کے لوگوں کو ہی نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی ہوتی ہے۔بادشاہوں نے بھی کوششیں کی ہیں کہ لوگ ان کی تعریف کریں۔پہلے زمانہ میں ایسا بھی کرتے تھے