خطبات محمود (جلد 6) — Page 442
ایک ایک دائرہ میں ہیں تو جتنا قریب کا تعلق ہو گا۔آنی ہی محبت زیادہ ہوگی۔اور جتنا دور کا اتنی ہی کم۔سیدوں کے سیدوں کے ساتھ اور مغلوں کے مغلوں کے ساتھ تجمع ہونے کی کیا وجہ ہے۔یہی کہ ان کی ایک نسل ہے۔پھر یہ تعلق اقوام سے بڑھ کر ملکوں پر اثر ڈالتا ہے مثلاً ہندوستانی یا انگریز۔اگر کوئی ہندوستانی یہ نے کہ کسی انگریز نے کسی ہندوستانی سے بُرا سلوک کیا ہے۔تو وہ بغیر اس بات کی تحقیقات کئے کہ زیادتی کس کی ہے۔انگریز کے خلاف ہو جاتے گا، یا اگر کوئی انگریز سنے تک کسی ہندوستانی نے انگریز سے بڑا سلوک کیا تو وہ تحقیق کئے بغیر ہندوستانی ہی کو الزام دے گا۔کہیں یہ قدرتی امر ہے کہ ہندوستانی ہندستانی کی طرف داری کرے گا۔اور انگریز انگریز کی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ہندوستانی ہندوستان وابستہ ہے۔اور ہر انگریز انگلستان سے۔اس سے معلوم ہوا کوئی رشتہ ہونا چاہیئے جس سے لوگ متحد ہوں۔اور جوں جوں یہ رشتہ دور ہوتا جائے گا۔تعلق بھی کم ہوتا جائے گا۔پس بھائیوں میں جو اتفاق دیکھا۔قوموں میں جو اتحاد نظر آیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اتفاق و اتحاد پیدا کرنے والی یہی ایک چیز دنیا میں ہے۔پھر جب اس سے بھی وسیع نظر کی جاتی ہے۔بنی نوع کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔اگر ایک انسان پر کوئی جانور حملہ کرے۔تو دوسرا انسان اس کی مدد کریگا۔اور پھر انسانوں سے گزر کر جانوروں میں بھی یہ بات ہوتی ہے۔کہ اگر کوئی بھیڑ یا کسی انسان پر حملہ کرے تو دوسرا بھیڑیا بھیڑیے پر حملہ نہیں کریگا۔بلکہ انسان پر لپکے گا۔پس تمام دنیا میں اتفاق کا ذریعہ ایک ہی ہے کہ کوئی چیز ایسی ہو جو سب کو جوڑنے والی ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبلِ الله - تم اللہ کے رستے کو پکڑ لو۔اس سے تم میں اتفاق و اتحاد پیدا ہو جائے گا۔اس سے ہمیں ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اتفاق کسی ایک چیز کو پکڑنے سے ہوتا ہے۔اور دوسرے یہ کہ وہ تعلق جتنا دور ہوتا جاتا ہے۔اتفاق میں کمی آتی جاتی ہے۔اور اعلیٰ درجہ کا ذریعہ اتفاق وہی ہو سکتا ہے۔جو ہر زمانہ میں موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ی ہیں کہا کہ محمد صل اللہ علیہ سلم کو پکڑ لو گو آپ کا پکڑنا لازمی ہے بلکہ فرمایا کہ الہ کی رسی کو پکڑ لوں اور اللہ کی رسی قرآن کریم ہے اور اسلامی تعلیم ہے جو ہرزمانہ میں موجود ہے۔اور اسی کو انسان پکڑ سکتا ہے اور یہ حبل اللہ ہر زمانے اور ہر ملک کے لیے اللہ کی طرف سے پھینکا گیا ہے جب تک اس کو کپڑے رہو گے نہیں گرو گے۔اور اگر ایک گرے گا تو اس کا اثر دوسروں پر پڑے گا۔پھر جدھر کو رسہ مجھکے گا ادھر آل عمران ۱۰۴